Mansha ur Rahman Khan Mansha

منشاء الرحمن خاں منشاء

منشاء الرحمن خاں منشاء کی غزل

    جگہ جگہ سے شکستہ ہیں خم ہیں دیواریں

    جگہ جگہ سے شکستہ ہیں خم ہیں دیواریں نہ جانے کتنے گھروں کا بھرم ہیں دیواریں چھتوں کا ذکر ہی کیا ان کو لے اڑی ہے ہوا اب حادثات کے زیر قدم ہیں دیواریں برستی بارشوں میں ہوں گی موجب خطرہ ابھی تو دھوپ میں ابر کرم ہیں دیواریں ہمارے خیمے طنابوں کے بل پہ قائم ہیں چھتیں تو خوب میسر ہیں ...

    مزید پڑھیے

    زیست میں رنگ بھر گئی آخر

    زیست میں رنگ بھر گئی آخر وہ نظر کام کر گئی آخر جذب وحشت کی کارسازی سے دل کی قسمت سنور گئی آخر چیر کر پردۂ مہ و انجم آپ ہی پر نظر گئی آخر جو قیامت گزرنی تھی ہم پر دل کے ہاتھوں گزر گئی آخر ہائے وہ اک نگاہ دزدیدہ کیا کیا الزام دھر گئی آخر جو خلش دل میں تھی نہاں پہلے رگ و پے میں اتر ...

    مزید پڑھیے

    صورت برق تپاں شعلہ فگن اٹھے ہیں

    صورت برق تپاں شعلہ فگن اٹھے ہیں عزم نو لے کے جوانان وطن اٹھے ہیں حفظ ناموس محبت کے لئے دیوانے اپنے دل میں لیے مرنے کی لگن اٹھے ہیں رخ زمانہ کی ہواؤں کا بدلنے والے آج ڈالے ہوئے ماتھے پہ شکن اٹھے ہیں پیکر مہر و وفا ہم ہیں مگر مجبوراً ہاتھ میں تیغ لیے غلغلہ زن اٹھے ہیں آنچ ناموس ...

    مزید پڑھیے

    شریک سوز دروں جب سے ہو گئے الفاظ

    شریک سوز دروں جب سے ہو گئے الفاظ نوائے درد میں شعلے پرو گئے الفاظ سنا کے داستاں دل دوز وارداتوں کی نہ جانے کتنوں کے دامن بھگو گئے الفاظ کبھی کبھی تو کچھ ایسا بھی اتفاق ہوا تڑپ کے جاگ اٹھے ارماں تو سو گئے الفاظ ملی نہ جب انہیں ابلاغ کی توانائی تو آپ اپنے مقدر کو رو گئے ...

    مزید پڑھیے

    دل کو بخشا سوز و گداز

    دل کو بخشا سوز و گداز اے غم تیری عمر دراز عشق و ہوس میں رشتہ کیسا ایک حقیقت ایک مجاز بیش نہیں ہے دل کی قیمت ایک نگاہ لطف نواز اس کا چھپانا کھیل نہیں ہے راز اور وہ بھی ان کا راز آئے کوئی ہم سے پوچھے مر کر جینے کے انداز جذب دروں کا فیض ہے منشاؔ فکر سخن کی یہ پرواز

    مزید پڑھیے

    طوفاں نظر میں ہے نہ کنارا نظر میں ہے

    طوفاں نظر میں ہے نہ کنارا نظر میں ہے اک عزم معتبر کا سہارا نظر میں ہے وہ دن گئے کہ تیرگیٔ شب کا تھا ملال اب جلوۂ سحر کا نظارا نظر میں ہے حسن نمود صبح کا اللہ رے کمال بہتا ہوا وہ نور کا دھارا نظر میں ہے کچھ ذوق پر گراں تو نہ تھا حسن کائنات کیا کیجیئے کہ حسن تمہارا نظر میں ہے دل کو ...

    مزید پڑھیے

    فصل گل کی ہے آبرو ہم سے

    فصل گل کی ہے آبرو ہم سے ہم سے ہے سیل رنگ و بو ہم سے حسن فطرت کے رازدار ہیں ہم پھول کرتے ہیں گفتگو ہم سے فرش گل پر بوقت صبح نسیم آ کے ملتی ہے با وضو ہم سے ہم شہید غم و الم ہی سہی زندگی تو ہے سرخ رو ہم سے نام ساقی کا ہو گیا ورنہ مے کدہ میں ہے ہا و ہو ہم سے بزم رنداں میں اب بھی باقی ...

    مزید پڑھیے

    پیار کی تم سے التجا کی ہے

    پیار کی تم سے التجا کی ہے دل نے کتنی حسیں خطا کی ہے ظلم جن دوستوں نے ڈھائے ہیں ہم نے ان کے لئے دعا کی ہے ان نگاہوں کو کیا کہیں قاتل جن میں معصومیت بلا کی ہے کوئی ایسے وفا بھی کیا کرتا آپ نے جس طرح جفا کی ہے ڈوبتے ہیں سفینے ساحل پر سب عنایت یہ ناخدا کی ہے زلف ہستی سنوارنے کے ...

    مزید پڑھیے

    ہوئے جو پاؤں سے معذور ہم جبیں سے چلے

    ہوئے جو پاؤں سے معذور ہم جبیں سے چلے جنون شوق میں یہ سلسلے ہمیں سے چلے ہمارا سر ہی ہمیشہ نشانہ بنتا ہے کسی بھی سمت سے پتھر چلے کہیں سے چلے کھلے طریقے سے ہم پر چلے نہیں خنجر اگر چلے بھی تو یاروں کی آستیں سے چلے ذرا بھی دوش نہیں اس میں آسمانوں کا بگولے فتنوں کے جب بھی چلے زمیں سے ...

    مزید پڑھیے

    پھولوں کو تبسم کی ادا تجھ سے ملی ہے

    پھولوں کو تبسم کی ادا تجھ سے ملی ہے گلشن کو جنوں خیز ہوا تجھ سے ملی ہے اے خلد نظر جان چمن روح بہاراں شبنم کو یہ نمناک ضیا تجھ سے ملی ہے بزم مہ و انجم کو بھی اے شاہد رعنا یہ نور سے بھرپور فضا تجھ سے ملی ہے گلگوں لب و رخسار کے صدقہ میں شفق کو یہ رنگ کی دولت بخدا تجھ سے ملی ہے اس ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3