دل کو ہر عیش سے بیگانہ بنا کر چھوڑا
دل کو ہر عیش سے بیگانہ بنا کر چھوڑا تم نے آخر اسے دیوانہ بنا کر چھوڑا دو نگاہوں کا تصادم تو کوئی بات نہ تھی اس کا بھی لوگوں نے افسانہ بنا کر چھوڑا صحن گلشن میں طرب خیز بہار آتے ہی ہم نے ہر پھول کو پیمانہ بنا کر چھوڑا سیکڑوں طرح کے بت اس میں اکٹھا کر کے کعبۂ دل کو بھی بت خانہ بنا ...