Mansha ur Rahman Khan Mansha

منشاء الرحمن خاں منشاء

منشاء الرحمن خاں منشاء کی غزل

    دل کو ہر عیش سے بیگانہ بنا کر چھوڑا

    دل کو ہر عیش سے بیگانہ بنا کر چھوڑا تم نے آخر اسے دیوانہ بنا کر چھوڑا دو نگاہوں کا تصادم تو کوئی بات نہ تھی اس کا بھی لوگوں نے افسانہ بنا کر چھوڑا صحن گلشن میں طرب خیز بہار آتے ہی ہم نے ہر پھول کو پیمانہ بنا کر چھوڑا سیکڑوں طرح کے بت اس میں اکٹھا کر کے کعبۂ دل کو بھی بت خانہ بنا ...

    مزید پڑھیے

    عشق کو بار زندگی نہ کہو

    عشق کو بار زندگی نہ کہو بات اتنی بھی بے تکی نہ کہو دل کو جس میں ہو فکر سود و زیاں اس تجارت کو عاشقی نہ کہو کچھ تو مرنے کا حوصلہ دکھلاؤ صرف جینے کو زندگی نہ کہو دل لگی کے سوا بھی کچھ ہے عشق عشق کو محض دل لگی نہ کہو کچھ نہ کہہ کر بھی اپنے دل کی بات یوں بہ انداز خامشی نہ کہو سب کہو ...

    مزید پڑھیے

    جگر کو چاک کہ دل کو لہو لہو کیجے

    جگر کو چاک کہ دل کو لہو لہو کیجے حیات کو کسی عنوان سرخ رو کیجے نہیں ہے حوصلہ مر مر کے زندہ رہنے کا تو کون کہتا ہے جینے کی آرزو کیجے ہے چاک چاک بہت زندگی کا پیراہن خدا کے واسطے کچھ کوشش رفو کیجے لہو سے پہلے گلستاں کو کیجیے سیراب پھر اس کے بعد تمنائے رنگ و بو کیجے تمہاری بزم میں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 3