یوں تو یوسف سے حسیں اور جواں تھے پہلے
یوں تو یوسف سے حسیں اور جواں تھے پہلے آپ سے لوگ زمانے میں کہاں تھے پہلے روز اول سے ہیں ہم سوختہ دل کشتۂ غم آج جیسے ہیں یوں ہی شعلہ بجاں تھے پہلے عشق نے کھول دیئے ہم پہ وہ اسرار حیات جو زمانے کی نگاہوں سے نہاں تھے پہلے آخر آنا ہی پڑا لوٹ کے تیری جانب قافلے دل کے بہر سمت رواں تھے ...