Mansha ur Rahman Khan Mansha

منشاء الرحمن خاں منشاء

منشاء الرحمن خاں منشاء کی غزل

    یوں تو یوسف سے حسیں اور جواں تھے پہلے

    یوں تو یوسف سے حسیں اور جواں تھے پہلے آپ سے لوگ زمانے میں کہاں تھے پہلے روز اول سے ہیں ہم سوختہ دل کشتۂ غم آج جیسے ہیں یوں ہی شعلہ بجاں تھے پہلے عشق نے کھول دیئے ہم پہ وہ اسرار حیات جو زمانے کی نگاہوں سے نہاں تھے پہلے آخر آنا ہی پڑا لوٹ کے تیری جانب قافلے دل کے بہر سمت رواں تھے ...

    مزید پڑھیے

    سوز غم چیز ہے کیا کچھ ہمیں معلوم تو ہو

    سوز غم چیز ہے کیا کچھ ہمیں معلوم تو ہو یہ مرض ہے کہ دوا کچھ ہمیں معلوم تو ہو روز و شب ہوتی رہے تازہ قیامت برپا زندگانی کا مزہ کچھ ہمیں معلوم تو ہو ہم بھی پروانہ مزاجی کا دکھائیں عالم قیمت و قدر وفا کچھ ہمیں معلوم تو ہو پھر لگا لیں گے کبھی چاند ستاروں کا سراغ پہلے خود اپنا پتا ...

    مزید پڑھیے

    سوز دل آہ شرربار سے پہچانتے ہیں

    سوز دل آہ شرربار سے پہچانتے ہیں لوگ طوفان کو آثار سے پہچانتے ہیں حوصلہ کہتے ہیں اک راہ عمل دیتا ہے حشر کو ہم تری رفتار سے پہچانتے ہیں رنگ مے رنگ شفق رنگ گہر رنگ گلاب تیرے رنگ لب و رخسار سے پہچانتے ہیں اپنی قسمت کے خم و پیچ کو ہم دیوانے تیرے ہی گیسوئے خم دار سے پہچانتے ہیں اہل ...

    مزید پڑھیے

    گل زخم کو آنسو کو گہر ہم نے کہا ہے

    گل زخم کو آنسو کو گہر ہم نے کہا ہے ہر عیب محبت کو ہنر ہم نے کہا ہے رعنائی جلوہ کو بصد حسن تیقن خود اپنا ہی اک عکس نظر ہم نے کہا ہے کچھ بات تو ہے جس کے سبب سارے جہاں میں اے دوست تجھے خلد نظر ہم نے کہا ہے کہنے کو رہ شوق میں راہی تو بہت تھے منزل کو مگر گرد سفر ہم نے کہا ہے ہو جن سے غم ...

    مزید پڑھیے

    چاہ کی تم سے التجا کی ہے

    چاہ کی تم سے التجا کی ہے ہم نے کتنی حسیں خطا کی ہے ظلم جن دوستوں نے ڈھائے ہیں دل نے ان کے لیے دعا کی ہے زلف ہستی سنوارنے کے لیے ہم نے کوشش تو بارہا کی ہے ڈوبتے ہیں سفینے ساحل پر سب عنایت یہ نا خدا کی ہے اس پہ بندوں کی حاکمی کیسی جب یہ ساری زمیں خدا کی ہے جان پر اپنی کھیل کر ...

    مزید پڑھیے

    اشک غم شورش پنہاں کی خبر دیتے ہیں

    اشک غم شورش پنہاں کی خبر دیتے ہیں یہ وہ قطرے ہیں جو طوفاں کی خبر دیتے ہیں قلب سوزاں میں شب و روز مچلتے جذبات گرمئ‌ شوق فراواں کی خبر دیتے ہیں ان سسکتے ہوئے غنچوں کو حقارت سے نہ دیکھ یہ تجھے نظم گلستاں کی خبر دیتے ہیں تیرے مے خانہ کے دم توڑتے آئیں ساقی کسی تغییر نمایاں کی خبر ...

    مزید پڑھیے

    بنام عشق غم معتبر ضروری ہے

    بنام عشق غم معتبر ضروری ہے حیات کے لیے کوئی ہنر ضروری ہے کچھ اور ہو نہ ہو حاصل بقائے دل کے لئے اک اضطراب مسلسل مگر ضروری ہے نشاط دید جو منظور ہے تو اے یارو نظر کے ساتھ خلوص نظر ضروری ہے بہت غلط ہے تمنائے خود فراموشی وفور عشق میں اپنی خبر ضروری ہے خیال زینت فصل بہار سے ...

    مزید پڑھیے

    درد سے جان چراتے ہوئے ڈر لگتا ہے

    درد سے جان چراتے ہوئے ڈر لگتا ہے دل کو ویران بناتے ہوئے ڈر لگتا ہے چار آنسو سر مژگاں تو کوئی بار نہیں غم کی توقیر گھٹاتے ہوئے ڈر لگتا ہے لوگ تو بات کا افسانہ بنا دیتے ہیں اس لیے لب بھی ہلاتے ہوئے ڈر لگتا ہے اپنی ہستی سے نہ ہو جاؤں کہیں بیگانہ آپ سے ربط بڑھاتے ہوئے ڈر لگتا ...

    مزید پڑھیے

    محبت کا قرینا آ گیا ہے

    محبت کا قرینا آ گیا ہے ہمیں مر مر کے جینا آ گیا ہے بہ فیض غم ہم اہل دل کے ہاتھوں دو عالم کا خزینہ آ گیا ہے تری شادابیوں کا ذکر سن کر گلوں کو بھی پسینہ آ گیا ہے بھڑک اٹھتی ہے جس میں آگ دل کی وہ ساون کا مہینہ آ گیا ہے مسافر اب کہیں تو جا لگیں گے تلاطم میں سفینہ آ گیا ہے سمجھے بیٹھے ...

    مزید پڑھیے

    ہم نے مانا ہمیں برباد کرے گی دنیا

    ہم نے مانا ہمیں برباد کرے گی دنیا کر کے برباد مگر یاد کرے گی دنیا جب اسے ظلم و ستم ہی میں مزہ آتا ہے کسی ناشاد کو کیا شاد کرے گی دنیا دیکھنا یہ ہے کہ ہم اہل جنوں پر کب تک نت نئے طرز کی بیداد کرے گی دنیا آج تو اپنی کرامات پہ اتراتی ہے کل مگر آپ ہی فریاد کرے گی دنیا دشمنی ہے اسے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3