Mansha ur Rahman Khan Mansha

منشاء الرحمن خاں منشاء

منشاء الرحمن خاں منشاء کے تمام مواد

23 غزل (Ghazal)

    جگہ جگہ سے شکستہ ہیں خم ہیں دیواریں

    جگہ جگہ سے شکستہ ہیں خم ہیں دیواریں نہ جانے کتنے گھروں کا بھرم ہیں دیواریں چھتوں کا ذکر ہی کیا ان کو لے اڑی ہے ہوا اب حادثات کے زیر قدم ہیں دیواریں برستی بارشوں میں ہوں گی موجب خطرہ ابھی تو دھوپ میں ابر کرم ہیں دیواریں ہمارے خیمے طنابوں کے بل پہ قائم ہیں چھتیں تو خوب میسر ہیں ...

    مزید پڑھیے

    زیست میں رنگ بھر گئی آخر

    زیست میں رنگ بھر گئی آخر وہ نظر کام کر گئی آخر جذب وحشت کی کارسازی سے دل کی قسمت سنور گئی آخر چیر کر پردۂ مہ و انجم آپ ہی پر نظر گئی آخر جو قیامت گزرنی تھی ہم پر دل کے ہاتھوں گزر گئی آخر ہائے وہ اک نگاہ دزدیدہ کیا کیا الزام دھر گئی آخر جو خلش دل میں تھی نہاں پہلے رگ و پے میں اتر ...

    مزید پڑھیے

    صورت برق تپاں شعلہ فگن اٹھے ہیں

    صورت برق تپاں شعلہ فگن اٹھے ہیں عزم نو لے کے جوانان وطن اٹھے ہیں حفظ ناموس محبت کے لئے دیوانے اپنے دل میں لیے مرنے کی لگن اٹھے ہیں رخ زمانہ کی ہواؤں کا بدلنے والے آج ڈالے ہوئے ماتھے پہ شکن اٹھے ہیں پیکر مہر و وفا ہم ہیں مگر مجبوراً ہاتھ میں تیغ لیے غلغلہ زن اٹھے ہیں آنچ ناموس ...

    مزید پڑھیے

    شریک سوز دروں جب سے ہو گئے الفاظ

    شریک سوز دروں جب سے ہو گئے الفاظ نوائے درد میں شعلے پرو گئے الفاظ سنا کے داستاں دل دوز وارداتوں کی نہ جانے کتنوں کے دامن بھگو گئے الفاظ کبھی کبھی تو کچھ ایسا بھی اتفاق ہوا تڑپ کے جاگ اٹھے ارماں تو سو گئے الفاظ ملی نہ جب انہیں ابلاغ کی توانائی تو آپ اپنے مقدر کو رو گئے ...

    مزید پڑھیے

    دل کو بخشا سوز و گداز

    دل کو بخشا سوز و گداز اے غم تیری عمر دراز عشق و ہوس میں رشتہ کیسا ایک حقیقت ایک مجاز بیش نہیں ہے دل کی قیمت ایک نگاہ لطف نواز اس کا چھپانا کھیل نہیں ہے راز اور وہ بھی ان کا راز آئے کوئی ہم سے پوچھے مر کر جینے کے انداز جذب دروں کا فیض ہے منشاؔ فکر سخن کی یہ پرواز

    مزید پڑھیے

تمام