ہوئے جو پاؤں سے معذور ہم جبیں سے چلے
ہوئے جو پاؤں سے معذور ہم جبیں سے چلے
جنون شوق میں یہ سلسلے ہمیں سے چلے
ہمارا سر ہی ہمیشہ نشانہ بنتا ہے
کسی بھی سمت سے پتھر چلے کہیں سے چلے
کھلے طریقے سے ہم پر چلے نہیں خنجر
اگر چلے بھی تو یاروں کی آستیں سے چلے
ذرا بھی دوش نہیں اس میں آسمانوں کا
بگولے فتنوں کے جب بھی چلے زمیں سے چلے
فراز دار کی عظمت میں کچھ کلام نہیں
بلند بختی کے سب سلسلے یہیں سے چلے
یہ پیش رفت کی ہے شرط اولیں منشاؔ
کہ چلنے والا اٹل عزم پر یقیں سے چلے