فصل گل کی ہے آبرو ہم سے

فصل گل کی ہے آبرو ہم سے
ہم سے ہے سیل رنگ و بو ہم سے


حسن فطرت کے رازدار ہیں ہم
پھول کرتے ہیں گفتگو ہم سے


فرش گل پر بوقت صبح نسیم
آ کے ملتی ہے با وضو ہم سے


ہم شہید غم و الم ہی سہی
زندگی تو ہے سرخ رو ہم سے


نام ساقی کا ہو گیا ورنہ
مے کدہ میں ہے ہا و ہو ہم سے


بزم رنداں میں اب بھی باقی ہے
وقعت بادہ و سبو ہم سے


ہم سے ہے دردؔ و داغؔ کی عظمت
ہم سے ہے نام آرزوؔ ہم سے


سیکھنا ہو تو سیکھ لے منشاؔ
کوئی انداز جستجو ہم سے