Manju Kachhawa Ana

منجو کچھاوا انا

منجو کچھاوا انا کی غزل

    چھین کر کوئی سکوں بس دے گیا ہے اضطراب

    چھین کر کوئی سکوں بس دے گیا ہے اضطراب جانے کیسے ربط کی یہ ابتدا ہے اضطراب ہر گھڑی مر کر گزاریں سانس اٹکی ہی رہے جیتے جی مرنے کے جیسی ہی سزا ہے اضطراب منزلوں کے بھی نشاں مبہم ہی کرتا جائے گا بس مسلسل اک سفر ہے راستہ ہے اضطراب کھنڈروں کی یا بیاباں کی طرف لے جائے جو ایسی بھٹکاتی ...

    مزید پڑھیے

    جس شخص نے بھی کھائے ہیں سنگین زخم دل

    جس شخص نے بھی کھائے ہیں سنگین زخم دل دیتے اسی کو ہیں یہاں تسکین زخم دل بے رنگ ہو گئے ہیں گل و سبزہ و بہار لیکن ابھی تلک ہیں یہ رنگین زخم دل ہنس کر مذاق جب بھی اڑایا ہے درد کا تب تب لگا کہ ہو گئے غمگین زخم دل بیٹھی ہوئی تھیں تخت پہ خوشیاں تو ٹھاٹ سے ان کو ہٹا کے ہو گئے آسین زخم ...

    مزید پڑھیے

    جب تک بلندیوں پہ ادب سے کھڑی رہی

    جب تک بلندیوں پہ ادب سے کھڑی رہی یہ کامرانی سب کی نظر میں بڑی رہی وحشت میں وہ صدائیں تو دیتا رہا مجھے میں خاک تھی تو خاک میں ہی بس پڑی رہی دل کش مجھے بنایا مصور نے جانے کیوں جو بندشوں کے فریم میں ہر دم جڑی رہی اس نے کہا کہ جسم کے تھرو روح کی ہے راہ میں بائی پاس روڈ کی ضد پر اڑی ...

    مزید پڑھیے

    جو غیر کے جذبات کی تعظیم کرے گا

    جو غیر کے جذبات کی تعظیم کرے گا وہ اپنی خطاؤں کو بھی تسلیم کرے گا میں اس کو ملوں گی بھی تو ٹکڑوں میں ملوں گی تسلیم سے پہلے مجھے تقسیم کرے گا حق بات بھی باطل سی لگے شیریں زباں میں وہ لہجے کو اس واسطے اب نیم کرے گا وہ کام جہاں بھر کی دوائیں نہ کریں گی جو کام محبت کا فقط میم کرے ...

    مزید پڑھیے

    جو ستارہ ٹوٹ کر پامال ہے اب خاک میں

    جو ستارہ ٹوٹ کر پامال ہے اب خاک میں یہ کبھی تابندہ تھا جب رہتا تھا افلاک میں میں تو مٹی ہی تھی اور مٹی ہی رہ جاتی مگر کوزہ گر کے ہاتھ میں یا تھا فسوں کچھ چاک میں واقعہ تیری شرارت کا کوئی یاد آ گیا ہنس پڑی بے ساختہ میں لمحۂ نمناک میں کاٹ دو میرے پروں کو روک دو میری اڑان بکھرے ہیں ...

    مزید پڑھیے

    کیوں بزم کی کرتا ہے تمنا دل ناداں

    کیوں بزم کی کرتا ہے تمنا دل ناداں ہو جائے گا تو اور بھی تنہا دل ناداں ہے ہجر محبت کا تقاضہ دل ناداں اب کر ہی لے تو پکا ارادہ دل ناداں ہر گام پہ ہی لوگ بدلتے ہیں یہاں دل خوش رہتا اگر تو بھی بدلتا دل ناداں کچھ اور دھڑک اور دھڑک اور دھڑک اور تو خود ہی سمجھ جائے گا قصہ دل ناداں چپ ...

    مزید پڑھیے