جب تک بلندیوں پہ ادب سے کھڑی رہی
جب تک بلندیوں پہ ادب سے کھڑی رہی
یہ کامرانی سب کی نظر میں بڑی رہی
وحشت میں وہ صدائیں تو دیتا رہا مجھے
میں خاک تھی تو خاک میں ہی بس پڑی رہی
دل کش مجھے بنایا مصور نے جانے کیوں
جو بندشوں کے فریم میں ہر دم جڑی رہی
اس نے کہا کہ جسم کے تھرو روح کی ہے راہ
میں بائی پاس روڈ کی ضد پر اڑی رہی
یوں تو کلائی پر ہے سبھی کے گھڑی مگر
بس میں کہاں کسی کے کوئی بھی گھڑی رہی
میں موم کا بدن لیے چلتی رہی اناؔ
اور دھوپ میرے سر پہ ہمیشہ کڑی رہی