جو غیر کے جذبات کی تعظیم کرے گا

جو غیر کے جذبات کی تعظیم کرے گا
وہ اپنی خطاؤں کو بھی تسلیم کرے گا


میں اس کو ملوں گی بھی تو ٹکڑوں میں ملوں گی
تسلیم سے پہلے مجھے تقسیم کرے گا


حق بات بھی باطل سی لگے شیریں زباں میں
وہ لہجے کو اس واسطے اب نیم کرے گا


وہ کام جہاں بھر کی دوائیں نہ کریں گی
جو کام محبت کا فقط میم کرے گا


بیکار میں ہم مانگتے رہتے ہیں دعائیں
کیوں اپنے ہی لکھے میں وہ ترمیم کرے گا