چھین کر کوئی سکوں بس دے گیا ہے اضطراب
چھین کر کوئی سکوں بس دے گیا ہے اضطراب
جانے کیسے ربط کی یہ ابتدا ہے اضطراب
ہر گھڑی مر کر گزاریں سانس اٹکی ہی رہے
جیتے جی مرنے کے جیسی ہی سزا ہے اضطراب
منزلوں کے بھی نشاں مبہم ہی کرتا جائے گا
بس مسلسل اک سفر ہے راستہ ہے اضطراب
کھنڈروں کی یا بیاباں کی طرف لے جائے جو
ایسی بھٹکاتی ہوئی سی اک صدا ہے اضطراب
شادمانی باغ کی تو ہو گئی مسمار سب
پھول تتلی اور غنچوں میں بچا ہے اضطراب
چاند تارے پھول خوشبو یہ گماں تھے عشق میں
اک کھلا حاصل ہوا اور اک ملا ہے اضطراب
کیسے کہہ دوں اس جہاں میں کوئی بھی میرا نہیں
اجنبی ہر شے ہے چاہے آشنا ہے اضطراب