جس شخص نے بھی کھائے ہیں سنگین زخم دل
جس شخص نے بھی کھائے ہیں سنگین زخم دل
دیتے اسی کو ہیں یہاں تسکین زخم دل
بے رنگ ہو گئے ہیں گل و سبزہ و بہار
لیکن ابھی تلک ہیں یہ رنگین زخم دل
ہنس کر مذاق جب بھی اڑایا ہے درد کا
تب تب لگا کہ ہو گئے غمگین زخم دل
بیٹھی ہوئی تھیں تخت پہ خوشیاں تو ٹھاٹ سے
ان کو ہٹا کے ہو گئے آسین زخم دل
رخ ہے اداس اشک ہیں آنکھوں میں بے شمار
کرنے لگے ہیں عشق کی توہین زخم دل
میں نے کہا ہرے ہی رہیں عمر بھر اناؔ
کہنے لگے تھے جھٹ سے ہی آمین زخم دل