Mamta Tiwari

ممتا تیواری

ممتا تیواری کی نظم

    روایتی محبت

    جھکی جھکی نظروں سے پستکوں کو سینے سے لگائے دھک دھک کرتے دل کو سنبھالے کہیں آنکھیں چار نہ ہو جائیں لیب میں چور نظر سے گھستے کہ آج تو درشن ہو جائیں پر مدہوشی کا عالم تو دیکھیں کہ نظریں ملیں تو شاید بے ہوش ہو جائیں ای میل پر کھلے عام خط کی بات نہیں یہ وہ کچرے میں پھینکا کاغذ بھی کئی ...

    مزید پڑھیے

    آس

    پوسٹ مین کی سائیکل کی گھنٹی میرے دل کی دھڑکنیں بڑھا دیتی ہے خط ہاتھ میں آتے ہی ان کی یادیں بھی ساتھ چلتی آتی ہے ایک مدہوش کرنے والی لفافہ کی خوشبو ذہن پر چھا جاتی ہے سیاہی کی لکھاوٹ اس کی انگلیوں کی چھون یاد دلاتی ہے کاغذ کا کھردرا احساس دل کو گدگداتا ہے پتر پر لکھا مضمون ٹھنڈ کی ...

    مزید پڑھیے

    رستا درد

    ایک طرف برسوں پرانا خون کا قرض ہے وہیں دوسری اور ایک مظلوم عورت کا رستا درد ہے وہ عورت میری ماں ہو سکتی ہے یا پڑوسن یا کوئی دور وطن کی اجنبی پر خون کے رشتے سے بڑا یہ درد ہے میرے لئے کیوں کہ ہر پل کچھ رستا ہے اس رشتے کے لئے ساری زندگی کارپیٹ بنی رہی یہ عورت آج بھی ذمہ داریوں کے بوجھ ...

    مزید پڑھیے

    جواں ہوتا بڑھاپا

    میں عمر کی گنتی تو الٹی نہیں کر سکتا پر میں بدلنا چاہتا ہوں تمہاری پرمپرک سوچ تاکہ خود کو محسوس کر سکوں جواں اور حوصلہ مند نقلی دانت لگا کر ٹوٹے سپنے نہیں دیکھوں گا انہیں حالات میں خوابوں کی نئی نیو رکھوں گا بالوں کو رنگنے کی بجائے نئے اندر دھنش رچوں گا چشمے کے بڑھتے نمبروں کو ...

    مزید پڑھیے

    وہ ایک لڑکی

    جو دلیر تھی کبھی جب پیدا ہوئی تھی تو رو رو کر پیر پٹک کر اپنے استیو کو درشانے کی کوشش کرنے لگی پر نظر پڑتے ہی اپنی ماں پر ماں کی بے چارگی نے اسے سہمنا سکھایا اپنی اہمیت دکھانے کی جرأت ہوئی تمہیں کیسے زمانے کی نظروں میں یہ نظر آیا اور بس تبھی سے پیاں پیاں چلنے سے اسکول سے کالج ...

    مزید پڑھیے