آس
پوسٹ مین کی سائیکل کی گھنٹی
میرے دل کی دھڑکنیں بڑھا دیتی ہے
خط ہاتھ میں آتے ہی
ان کی یادیں بھی ساتھ چلتی آتی ہے
ایک مدہوش کرنے والی لفافہ کی خوشبو
ذہن پر چھا جاتی ہے
سیاہی کی لکھاوٹ
اس کی انگلیوں کی چھون یاد دلاتی ہے
کاغذ کا کھردرا احساس
دل کو گدگداتا ہے
پتر پر لکھا مضمون
ٹھنڈ کی گرم چائے سا گرماتا ہے
ایسے جانے کتنے خط ڈاکیہ لاتا رہا
اور ہر دیوالی پر انہیں خطوں کا انعام پاتا رہا