روایتی محبت
جھکی جھکی نظروں سے پستکوں کو سینے سے لگائے دھک دھک کرتے دل کو سنبھالے کہیں آنکھیں چار نہ ہو جائیں لیب میں چور نظر سے گھستے کہ آج تو درشن ہو جائیں پر مدہوشی کا عالم تو دیکھیں کہ نظریں ملیں تو شاید بے ہوش ہو جائیں ای میل پر کھلے عام خط کی بات نہیں یہ وہ کچرے میں پھینکا کاغذ بھی کئی ...