از سر نو تشکیل
حق صداقت اور حسن یہ سب چٹانوں پہ چپکے ہوئے مٹی کے اندر دبے ہوئے فاسلس ہیں آؤ ہم انہیں کھرچ کر کھود کر تجربہ گاہوں میں لے چلے اور ہو سکے تو ڈی این اے سے ان کی از سر نو تشکیل کریں
حق صداقت اور حسن یہ سب چٹانوں پہ چپکے ہوئے مٹی کے اندر دبے ہوئے فاسلس ہیں آؤ ہم انہیں کھرچ کر کھود کر تجربہ گاہوں میں لے چلے اور ہو سکے تو ڈی این اے سے ان کی از سر نو تشکیل کریں
لال پیلی نیلی نیلی اور ہری خواہشوں کی جانے کتنی مچھلیاں تیرتی رہتی ہیں میرے جار میں اور جب ان میں سے کوئی یک بیک اک تمنا بن کے باہر کودتی ہیں صاف ستھرے فرش پہ دم توڑتی ہے
سخت سطح سے مٹی ہٹا کر گہری زمیں کے اندر جا کے جذب ہو چکے گدلے پانی کو اوپر لاتا ہوں پھر تشبیہوں علامتوں اور استعاروں کے برتن میں اس کو صاف و کشید کر کے اپنی پیاس بجھاتا ہوں اور دنیا کی تشنہ لبی بھی سیرابی حاصل کرتی ہے
شہروں کے شفاف بدن اور تہذیبوں کے سینوں پر نیلی برا میں لپٹی متمدن چھاتیوں میں جتنی کشش ہے اتنا دودھ نہیں ہے چاند رنگ ڈھلوانوں پر انسانوں کے آنسوؤں کا ایک بھی قطرہ ٹھہر نہیں سکتا ہے آ کر تو پھر ہم سب کیوں نہ چل کر صحرا میں ہی رہا کریں اب
خاموشی سے پوچھا میں نے کیوں آتی ہے پاس تو میرے آخر کیوں سمٹی رہتی ہے کیا رکھا ہے کیا ملتا ہے تجھ کو یہاں پر کچھ نہیں بولی چپ سی رہی اور دور تلک پھر پھیل گئی وہ