کچھ ایسا تو ابھی سوچا نہیں ہے

کچھ ایسا تو ابھی سوچا نہیں ہے
کہ جو میرا ہے وہ اس کا نہیں ہے


مروت سے ذرا دھندلی ہیں آنکھیں
یہ مت سمجھو نظر آتا نہیں ہے


ابھی کل ہی تو کچھ وعدے کیے تھے
تمہارا حافظہ اچھا نہیں ہے


یہی تو جڑ ہے ساری نفرتوں کی
محبت کو کوئی سمجھا نہیں ہے


تم عورت ہو ذرا محتاط رہنا
زمانہ اس قدر بدلا نہیں ہے


چلو شیشے کو تو نازک بھی کہہ دیں
کوئی پتھر ہے جو ٹوٹا نہیں ہے


ہمارے منہ پہ ہم سے جھوٹ بولے
ہمارا آئنہ ایسا نہیں ہے