رشتے بنے ہوئے ہیں سبھی کے سبھی کے ساتھ
رشتے بنے ہوئے ہیں سبھی کے سبھی کے ساتھ
وابستگی نہیں ہے کسی کی کسی کے ساتھ
ٹوٹا ہے اک ستارہ ابھی آسمان سے
پھر بے وفائی کی ہے کسی نے کسی کے ساتھ
روشن گھروں میں بانٹ دی پھر روشنی تمام
انصاف یہ ہوا ہے مری تیرگی کے ساتھ
اتنی تہیں کھلی ہیں کہ کھلتی چلی گئیں
اک بات اس نے کی تھی بڑی سادگی کے ساتھ
اس کی تلاش اس کی طلب اس کا ذکر خیر
در پردہ بندگی ہے مری شاعری کے ساتھ