ہم ان سے مل کے انہی کے اثر میں رہتے ہیں

ہم ان سے مل کے انہی کے اثر میں رہتے ہیں
سفر سے آ کے بھی جیسے سفر میں رہتے ہیں


وہ قہقہے جنہیں ہونٹوں کا در نصیب نہیں
وہ اشک بن کے مری چشم تر میں رہتے ہیں


ہمارے عشق کے تحفے کو احتیاط سے رکھ
بہت سے لوٹنے والے نگر میں رہتے ہیں


بھلائے گا کوئی کیسے کرم رفیقوں کے
یہ تیر وہ ہیں جو ہر دم جگر میں رہتے ہیں


نہ ماں کا پیار میسر نہ اپنے گھر کا سکوں
وہ کیسے لوگ ہیں جا کر قطر میں رہتے ہیں


حسیں مثال ہے باہم نباہ کی کاوشؔ
گلاب جتنے ہیں کانٹوں کے گھر میں رہتے ہیں