مرے لیے تری نظروں کی روشنی ہے بہت
مرے لیے تری نظروں کی روشنی ہے بہت کہ دیکھ لوں تجھے پل بھر مجھے یہی ہے بہت یہ اور بات کہ چاہت کے زخم گہرے ہیں تجھے بھلانے کی کوشش تو ورنہ کی ہے بہت کچھ اس خطا کی سزا بھی تو کم نہیں ملتی غریب شہر کو اک جرم آگہی ہے بہت کہاں سے لاؤں وہ چہرہ وہ گفتگو وہ ادا ہزار حسن ہے گلیوں میں آدمی ...