Mahmood Shaam

محمود شام

پاکستان کے ممتاز صحافی

FormeOne of the most prominent journalists in Pakistan

محمود شام کی غزل

    مرے لیے تری نظروں کی روشنی ہے بہت

    مرے لیے تری نظروں کی روشنی ہے بہت کہ دیکھ لوں تجھے پل بھر مجھے یہی ہے بہت یہ اور بات کہ چاہت کے زخم گہرے ہیں تجھے بھلانے کی کوشش تو ورنہ کی ہے بہت کچھ اس خطا کی سزا بھی تو کم نہیں ملتی غریب شہر کو اک جرم آگہی ہے بہت کہاں سے لاؤں وہ چہرہ وہ گفتگو وہ ادا ہزار حسن ہے گلیوں میں آدمی ...

    مزید پڑھیے

    کتنے در وا ہیں کہیں آنکھ ملائیں تو سہی

    کتنے در وا ہیں کہیں آنکھ ملائیں تو سہی اس نئے شہر سے کچھ ربط بڑھائیں تو سہی کسی خوشبو کے تعاقب میں چلیں گام دو گام دھیان میں چاندنی کا شہر بسائیں تو سہی کچھ تو کہتی ہے سر شام سمندر کی ہوا کبھی ساحل کی خنک ریت پہ جائیں تو سہی کیا خبر اوٹ میں ہوں اس کی مناظر کیا کیا اپنے پندار کی ...

    مزید پڑھیے

    اونے پونے غزلیں بیچیں نظموں کا بیوپار کیا

    اونے پونے غزلیں بیچیں نظموں کا بیوپار کیا دیکھو ہم نے پیٹ کی خاطر کیا کیا کاروبار کیا اس بستی کے لوگ تو سب تھے چلتی پھرتی دیواریں ہم نے رنگ لٹاتی شب سے اجلے دنوں سے پیار کیا ذہن سے اک اک کر کے تیری ساری باتیں اتر گئیں کبھی کبھی تو وقت نے ہم کو ایسا بھی ناچار کیا اپنا آپ بھی ...

    مزید پڑھیے

    یاد مجھے دلا گئی میری وہ بے وفائیاں

    یاد مجھے دلا گئی میری وہ بے وفائیاں آنکھ میں اس کی نقش تھیں کتنی کٹھن جدائیاں چہرے پہ کیا عذاب تھے آنکھ میں کتنے خواب تھے ہونٹ کھلی کتاب تھے کہتے تھے سب کہانیاں پھیلی تھی اس کے آس پاس گہری اداسیوں کی باس جھانک رہی تھی سخت پیاس دہک رہے تھے جسم و جاں پلکوں پہ گزری ساعتیں لب پر ...

    مزید پڑھیے

    پلکیں اجاڑ دل ہے بجھا روح سو گئی

    پلکیں اجاڑ دل ہے بجھا روح سو گئی روئے ہوئے بھی یارو بہت دیر ہو گئی اک وہ صدا تھی اپنے تو جینے کا حوصلہ اس زندگی کے شور میں اب وہ بھی کھو گئی آئی تو جیسے ہونے لگا مطلع غزل بیٹھی تو جیسے نظم کی تکمیل ہو گئی کہتے تھے اب نہ آئیں گے نظروں کے جال میں موج نسیم ذہن سے ہر عزم دھو ...

    مزید پڑھیے

    گھر گیا ہوں بے طرح میں خواہشوں کے درمیاں

    گھر گیا ہوں بے طرح میں خواہشوں کے درمیاں جسم کے ریزے اڑاتی آندھیوں کے درمیاں کتنے چہرے کتنی شکلیں پھر بھی تنہائی وہی کون لے آیا مجھے ان آئینوں کے درمیاں ہم کہاں یارو کہاں وہ موجۂ باد نسیم وقت کی پہنائیاں حائل دلوں کے درمیاں دل پہ گزری جو وہ گزری شہر کیوں ویراں ہوئے ایک دہشت ...

    مزید پڑھیے

    کس کو ہوگا ترے آنے کا پتہ میرے بعد

    کس کو ہوگا ترے آنے کا پتہ میرے بعد کون سن پائے گا لمحوں کی صدا میرے بعد جس سے یادوں کے شبستان مہک اٹھتے تھے اسی خوشبو کو ترستی ہے صبا میرے بعد میں تو اک رقص تھا کچھ رنگ بھرے ذروں کا راز یہ اہل زمانہ پہ کھلا میرے بعد بام و در چیختے ہیں رینگتی تنہائی میں شہر میں خاک اڑاتی ہے ہوا ...

    مزید پڑھیے

    کس رنگ میں ہیں اہل وفا اس سے نہ کہنا

    کس رنگ میں ہیں اہل وفا اس سے نہ کہنا کیوں پھول ہیں خوشبو سے جدا اس سے نہ کہنا ڈوبی نہیں مدت سے جو نظروں کے بھنور میں اس آنکھ کا جو حال ہوا اس سے نہ کہنا یادوں کے در و بام پہ اک نام وہی نام کیا جانے کئی بار لکھا اس سے نہ کہنا لپٹی تھی دریچوں سے حسیں چاندنی کیسے کیا کیا مجھے تاروں ...

    مزید پڑھیے

    راحت نظر بھی ہے وہ عذاب جاں بھی ہے

    راحت نظر بھی ہے وہ عذاب جاں بھی ہے اس سے ربط لذت بھی اور امتحاں بھی ہے فاصلے مٹے بھی ہیں اور کچھ بڑھے بھی ہیں یہ سفر ضروری ہے اور رائیگاں بھی ہے عمر بھر کی الجھن دے ایک پل کا نظارہ تیرا غم حقیقت بھی اور بے نشاں بھی ہے تیری میٹھی باتوں میں جھیل جھیل آنکھوں میں آگ بھی سلگتی ہے درد ...

    مزید پڑھیے

    کتنی شدت سے تجھے چاہا تھا

    کتنی شدت سے تجھے چاہا تھا کبھی کچھ اور نہیں سوچا تھا کھوئے تھے ایسے تری چاہت میں ٹوٹ کے ابر جنوں برسا تھا میری ہر سوچ میں تھی تیری ہی سوچ میرا ہر لمحہ ترا لمحہ تھا جب بھی پڑتے تھے خیالوں کے بھنور تیرا چہرہ ہی ابھر آتا تھا ان دنوں جسم کی رگ رگ میں رواں خوں کہاں خواہشوں کا دریا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 4