Mahmood Shaam

محمود شام

پاکستان کے ممتاز صحافی

FormeOne of the most prominent journalists in Pakistan

محمود شام کی غزل

    رات آئی ہے گزر جائے گی

    رات آئی ہے گزر جائے گی روشنی بن کے بکھر جائے گی ہاں یوں ہی چاند کو تکتے رہنا چاندنی دل میں اتر جائے گی لذت درد بچا کر رکھنا نکہت جاں ہے بکھر جائے گی کرب کی آگ لگا لو دل سے کل خدا جانے کدھر جائے گی اسی رستے پہ بہا اپنا لہو اسی رستے سے سحر جائے گی جسم کٹنا تھا یہ معلوم نہ تھا یوں ...

    مزید پڑھیے

    دل کا عجیب حال ہے تیری صدا کے بعد

    دل کا عجیب حال ہے تیری صدا کے بعد جیسے کہ آسمان کا منظر گھٹا کے بعد کیا کیا نقوش ہم نے ابھارے تھے ریت پر باقی رہا نہ کوئی بھی وحشی ہوا کے بعد بکھری ہوئی تھیں چار سو پھولوں کی پتیاں گلشن سنور سنور گیا باد صدا کے بعد اب تک فضا میں گونجتی ہے ایک نغمگی سارا جہاں ہی رقص میں ہے اس صدا ...

    مزید پڑھیے

    لے اڑا ایسے ترا دھیان مجھے

    لے اڑا ایسے ترا دھیان مجھے تو بھی لگتی ہے اب انجان مجھے ہر صدا تیری صدا لگتی ہے کیا بتاتے ہیں مرے کان مجھے ریت کا ڈھیر بنا دے نہ کہیں دھوپ میں تپتا بیابان مجھے سنسناتے ہیں در و بام خیال کر گیا کون یہ ویران مجھے میں نے پہچان لیا ہے تجھ کو اب نہ کر مفت پریشان مجھے رچ گئی جس میں ...

    مزید پڑھیے

    بس ایک اپنے ہی قدموں کی چاپ سنتا ہوں

    بس ایک اپنے ہی قدموں کی چاپ سنتا ہوں میں کون ہوں کہ بھرے شہر میں بھی تنہا ہوں جہاں میں جسم تھا تو نے وہاں تو ساتھ دیا وہاں بھی آ کہ جہاں میں تمام سایا ہوں وہ ایک موڑ بھی اس رہ پہ آئے گا کہ جہاں ملا کے ہاتھ تو بولے گا میں تو چلتا ہوں تری جدائی کا غم ہے نہ تیرے ملنے کا میں اپنی آگ ...

    مزید پڑھیے

    پھر اک ساتھی مجھے اکیلا چھور گیا

    پھر اک ساتھی مجھے اکیلا چھور گیا آپ سدھارا اپنا سایا چھوڑ گیا اس کو کتنے پیڑ صدائیں دیتے تھے وہ تو سب کو یوں ہی بلاتا چھوڑ گیا اب تک میدانوں کے جسم چمکتے ہیں جانے کیسی مٹی دریا چھوڑ گیا لپٹ لپٹ کر اک دوجے سے روتے ہیں جن پتوں کو ہوا کا جھونکا چھوڑ گیا چاندنی شب تو جس کو ڈھونڈنے ...

    مزید پڑھیے

    وقت کے کتنے ہی رنگوں سے گزرنا ہے ابھی

    وقت کے کتنے ہی رنگوں سے گزرنا ہے ابھی زندگی ہے تو کئی طرح سے مرنا ہے ابھی کٹ گیا دن کا دہکتا ہوا صحرا بھی تو کیا رات کے گہرے سمندر میں اترنا ہے ابھی ذہن کے ریزے تو پھیلے ہیں فضا میں ہر سو جسم کو ٹوٹ کے ہر گام بکھرنا ہے ابھی کون ہے جس کے لیے اب بھی دھڑکتا ہے دل کس کو اس اجڑے جزیرے ...

    مزید پڑھیے

    عمر گزری کہ تری دھن میں چلا تھا دریا

    عمر گزری کہ تری دھن میں چلا تھا دریا جا بہ جا گھومتا ہے آج بھی پگلا دریا بنتی جاتی ہیں گہر کتنی ہی بھولی یادیں یہ مرا دل ہے کہ ٹھہرا ہوا گہرا دریا نہ کسی موج کا نغمہ ہے نہ گرداب کا رقص جانے کیا بات ہے خاموش ہے سارا دریا تھل کے سینے پہ پگھل جاتی ہے جب چاند کی برف دور تک ریت پہ بہتا ...

    مزید پڑھیے

    ایسے چپ چپ بھی کیا جیا جائے

    ایسے چپ چپ بھی کیا جیا جائے اب کہیں عشق ہی کیا جائے دل کے شیشے پہ ہے غبار بہت آج کچھ دیر رو لیا جائے اجنبی شہر بے نمک چہرے کسے ہم راز دل کیا جائے حبس کی پیاس ہے بجھے گی کہاں آب حیواں ہی گو پیا جائے دل ہے ویران شہر بھی خاموش فون ہی اس کو کر لیا جائے ایک دیوار جسم باقی ہے اب اسے ...

    مزید پڑھیے

    کیا ہوئے پھول سے بدن کچھ سوچ

    کیا ہوئے پھول سے بدن کچھ سوچ چھپ گئے چاند کیوں معاً کچھ سوچ کیوں سسکتی ہے چاندنی شب بھر آہیں بھرتی ہے کیوں پون کچھ سوچ سر جھکائے کھڑی رہی پہروں تیری دہلیز پر کرن کچھ سوچ روح کا ساتھ کون دائم ہے پھول سے اٹھ گئی پھبن کچھ سوچ بام و در پہ بھی کچھ اداسی ہے کھوئے کھوئے سے ہیں چمن کچھ ...

    مزید پڑھیے

    نظر کسی کی نظر سے نہیں الجھتی تھی

    نظر کسی کی نظر سے نہیں الجھتی تھی وہ دن بھی تھے کہ یوں ہی زندگی گزرتی تھی ستارے اپنے لیے خواہشوں کی منزل تھے حسین رات ہمیں چاندنی پلاتی تھی رہے تھے اپنی ہواؤں میں ایک عمر مگر بکھر پڑے تو ہر اک گام اپنی ہستی تھی یہی بہت تھا کہ کچھ لوگ آ کے کہتے تھے وہ میرا ذکر بہت مخلصانہ کرتی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 4