Mahmood Shaam

محمود شام

پاکستان کے ممتاز صحافی

FormeOne of the most prominent journalists in Pakistan

محمود شام کی غزل

    ٹوٹے ہیں کیسے خواہشوں کے آئنوں کو دیکھ

    ٹوٹے ہیں کیسے خواہشوں کے آئنوں کو دیکھ پلکوں کی تہ میں بکھری ہوئی کرچیوں کو دیکھ میں ہوں ترا ہی عکس مرے رنگ پر نہ جا آنکھوں میں جھانک اپنی ہی تنہائیوں کو دیکھ یہ آسماں کے بدلے ہوئے رنگ غور کر ان موسموں کے بپھرے ہوئے تیوروں کو دیکھ سن تو در خیال پہ فردا کی دستکیں خود کا حصار توڑ ...

    مزید پڑھیے

    روز و شب کی شاخ سے بچھڑا ہوا پتا ہوں میں

    روز و شب کی شاخ سے بچھڑا ہوا پتا ہوں میں وقت بھی اب ڈھونڈھتا ہے جس کو وہ لمحہ ہوں میں دل کے شیشے ٹوٹ جاتے ہیں مری آواز سے اک شکستہ ساز سے ابھرا ہوا نغمہ ہوں میں ہم نشینوں کو کبھی آتی نہیں ہے آنچ تک کتنی ٹھنڈی آگ ہے جس میں سدا جلتا ہوں میں زندگی کے شور میں سمٹے رہے ذرے مرے اک ذرا ...

    مزید پڑھیے

    دل میں جب تیری لگن رقص کیا کرتی تھی

    دل میں جب تیری لگن رقص کیا کرتی تھی میری ہر سانس میں خوشبو سی بسا کرتی تھی اب تو محفل سے بھی ہوتا نہیں کچھ غم کا علاج پہلے تنہائی بھی دکھ بانٹ لیا کرتی تھی اب جو رقصا ہے کئی رنگ بھرے چہروں میں یہی مٹی کبھی بے کار اڑا کرتی تھی رنگ کے جال ہی ملتے ہیں جدھر جاتا ہوں روشنی یوں نہ مجھے ...

    مزید پڑھیے

    کبھی میں عالم امکاں سے گزر جاتا ہوں

    کبھی میں عالم امکاں سے گزر جاتا ہوں اور کبھی جسم کی دلدل میں اتر جاتا ہوں یہ بھرا شہر کبھی مجھ میں سمٹ آتا ہے کبھی میں شہر میں ہر گام بکھر جاتا ہوں شہر سے رہتی ہے اک جنگ مسلسل دن بھر شہر جب ہانپنے لگتا ہے تو گھر جاتا ہوں اس کشاکش میں ہی ملتا ہے نشاں ہونے کا جب بھی تکمیل کا احساس ...

    مزید پڑھیے

    جھانکتے لوگ کھلے دروازے

    جھانکتے لوگ کھلے دروازے چاند کا شہر بنے دروازے کس کی آہٹ کا فسوں طاری ہے محو ہیں آج بڑے دروازے بول کے دیں نہ کبھی دیواریں سر پٹختے ہی رہے دروازے لوگ محفوظ ہوئے کمروں میں برف کی زد میں رہے دروازے کبھی سورج کی کبھی ظلمت کی مار سہتے ہی رہے دروازے رات بھر چاندنی ٹکرائی مگر صبح ...

    مزید پڑھیے

    جانے اے دوست کیا ہوا ہم کو

    جانے اے دوست کیا ہوا ہم کو تیرا غم بھی نہ اب رہا ہم کو ہم نہ آئیں کہیں یہ ممکن ہے آپ دیں تو سہی صدا ہم کو خشک پتے ہیں ہم نہ جانے کب لے اڑے باؤلی ہوا ہم کو کب سے ہیں ہم تو گوش بر آواز کچھ تو اے خامشی سنا ہم کو کس لیے خار ہوں تلاش میں ہم خود ہی ڈھونڈے گا راستہ ہم کو یوں ہی آ آ کے ...

    مزید پڑھیے

    تو معمہ ہے تو حل اس کو بھی کرنا ہے مجھے

    تو معمہ ہے تو حل اس کو بھی کرنا ہے مجھے تو سمندر ہے تو پھر تہ میں اترنا ہے مجھے تو نے سوچا تھا کہ جلووں سے بہل جاؤں گا ایسے کتنے ہی سرابوں سے گزرنا ہے مجھے کرب جتنا ہے تری آنکھ میں برسا دے مگر اسی گرداب میں پھنس کر تو ابھرنا ہے مجھے پھر بپا ہے وہی جذبات کا طوفان تو کیا اسی بگڑے ...

    مزید پڑھیے

    اک سمندر شہر کو آغوش میں لیتا ہوا

    اک سمندر شہر کو آغوش میں لیتا ہوا اک سمندر تیرے میرے درمیاں پھیلا ہوا ایک جنگل جس میں انساں کو درندوں سے ہے خوف ایک جنگل جس میں انساں خود سے ہی سہما ہوا ایک دریا جو بجھا دیتا ہے میدانوں کی پیاس ایک دریا خواہشوں کی پیاس کا چڑھتا ہوا ایک صحرا جس میں سناٹا بگولے اور سراب ایک صحرا ...

    مزید پڑھیے

    حشر ظلمات سے دل ڈرتا ہے

    حشر ظلمات سے دل ڈرتا ہے اس گھنی رات سے دل ڈرتا ہے برف احساس نہ گل جائے کہیں سیل اوقات سے دل ڈرتا ہے تو بھی اے دوست نہ ہو جائے جدا اب ہر اک بات سے دل ڈرتا ہے یہ کڑی دھوپ دہکتا سورج سائے کے سات سے دل ڈرتا ہے ہائے وہ رینگتی تنہائی جب اپنی ہی ذات سے دل ڈرتا ہے کیسے دیکھیں گے وہ اجڑی ...

    مزید پڑھیے

    کچھ نظر آتا نہیں ہے وہ اجالا کر دیا

    کچھ نظر آتا نہیں ہے وہ اجالا کر دیا سب ہی اپنا آپ بھولے وہ تماشا کر دیا کان بھی پڑتی نہیں ہے اب تو آواز ضمیر کھوکھلے ذہنوں نے اتنا شور برپا کر دیا ہاتھ خالی ہیں ہمارے اور کچھ رب جلیل تو نے جو کچھ بھی لکھا تھا ہم نے پورا کر دیا مسئلے جیسے چٹانیں رہنما جیسے ہوا وقت نے کتنے فلک ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 4