یاد مجھے دلا گئی میری وہ بے وفائیاں
یاد مجھے دلا گئی میری وہ بے وفائیاں
آنکھ میں اس کی نقش تھیں کتنی کٹھن جدائیاں
چہرے پہ کیا عذاب تھے آنکھ میں کتنے خواب تھے
ہونٹ کھلی کتاب تھے کہتے تھے سب کہانیاں
پھیلی تھی اس کے آس پاس گہری اداسیوں کی باس
جھانک رہی تھی سخت پیاس دہک رہے تھے جسم و جاں
پلکوں پہ گزری ساعتیں لب پر گلے شکایتیں
آنسوؤں میں حکایتیں دھڑکنیں سانس سسکیاں
لفظ تھے کچھ کٹے کٹے سانس بھی تھے بٹے بٹے
بال تھے گرد میں اٹے چہرے پہ تھیں ہوائیاں
شامؔ ہوا کی سسکیاں دن کے لہو کی سرخیاں
درد بھری یہ داستاں پھیلی ہیں سب کراں کراں