پلکیں اجاڑ دل ہے بجھا روح سو گئی
پلکیں اجاڑ دل ہے بجھا روح سو گئی
روئے ہوئے بھی یارو بہت دیر ہو گئی
اک وہ صدا تھی اپنے تو جینے کا حوصلہ
اس زندگی کے شور میں اب وہ بھی کھو گئی
آئی تو جیسے ہونے لگا مطلع غزل
بیٹھی تو جیسے نظم کی تکمیل ہو گئی
کہتے تھے اب نہ آئیں گے نظروں کے جال میں
موج نسیم ذہن سے ہر عزم دھو گئی
کھوئے ہیں اس کے سحر میں ہی اہل کارواں
اس کی نظر جو وقت سفر رنگ بو گئی
اف یہ دلوں میں پھیلے خلاؤں کی وسعتیں
کیسے کہیں خلاؤں کی تسخیر ہو گئی
میں ہوں شکار فتنۂ احساس رنگ شامؔ
کس طرح ایک جسم کی تقسیم ہو گئی