زندگی جس سے جاگتی ہے ابھی
زندگی جس سے جاگتی ہے ابھی وہ کہانی تو ان کہی ہے ابھی راہ میں اور بھی میں کوہ گراں ایک دیوار ہی گری ہے ابھی جنبش لب ہی بن گئی طوفاں سینکڑوں حرف گفتنی ہے ابھی
پاکستان کے ممتاز صحافی
FormeOne of the most prominent journalists in Pakistan
زندگی جس سے جاگتی ہے ابھی وہ کہانی تو ان کہی ہے ابھی راہ میں اور بھی میں کوہ گراں ایک دیوار ہی گری ہے ابھی جنبش لب ہی بن گئی طوفاں سینکڑوں حرف گفتنی ہے ابھی
وقت کے کتنے ہی دھاروں سے گزرنا ہے ابھی زندگی ہے تو کئی رنگ سے مرنا ہے ابھی کٹ گیا دن کا دہکتا ہوا صحرا بھی تو کیا رات کے گہرے سمندر میں اترنا ہے ابھی ذہن کے ریزے تو پھیلے ہیں فضا میں ہر سو جسم کو ٹوٹ کے ہر گام بکھرنا ہے ابھی یہ سجے بام جواں چاندنی یوں لگتا ہے اک ستم اور ترے شہر نے ...
مدتوں بعد وہ گلیاں وہ جھروکے دیکھے جسم کی راکھ سے اٹھتے ہوئے شعلے دیکھے دل میں در آئیں گئی ساعتیں خوشبو بن کر صدیوں کی نیند سے پھر جاگتے لمحے دیکھے رنگ برساتی وہی صبح وہی بھیگتی شام وہی احساس میں ڈوبے ہوئے سائے دیکھے ایک اک موڑ ملے بچھڑے خیالوں کے ہجوم سونے دروازوں میں پھر ...
اس کو تکتے بھی نہیں تھے پہلے ہم بھی خوددار تھے کتنے پہلے اس کو دیکھا تو یہ محسوس ہوا ہم بہت دور تھے خود سے پہلے دل نظر آتے ہیں اب آنکھوں میں کتنے گہرے تھے یہ چشمے پہلے کھوئے رہتے ہیں اب اس کی دھن میں جس کو تکتے نہ تھے پہلے پہلے ہم کو پہچان لیا کرتے تھے یہ ترے شہر کے رستے ...
تپتی ہوئی راہوں پہ پھرایا مجھے دن بھر یوں تیرے تصور نے ستایا مجھے دن بھر دل میں وہ کسک چھوڑ گیا صبح کا تارا اک لمحہ بھی آرام نہ آیا مجھے دن بھر ویران بیاباں میں کبھی اجڑے گھروں میں پھرتا رہا لے کر ترا سایا مجھے دن بھر دیتی رہی یہ چاندنی شب بھر مجھے آواز سورج نے بھی رہ رہ کے ...
ڈنر پہ آج کوئی اس سا آشنا بھی نہ تھا وہ اس سے پہلے اگرچہ کہیں ملا بھی نہ تھا اسی نے آج بتایا مجھے کہ کون ہوں میں وہ جس کو آج سے پہلے میں جانتا بھی نہ تھا کہاں ہوں کیوں ہوں ہر اک سانس پوچھتی ہے مجھے کبھی میں اپنے سوالوں میں یوں گھرا بھی نہ تھا کسی کی میز پہ ہی رہ گئی نہ جانے ...