ٹوٹے ہیں کیسے خواہشوں کے آئنوں کو دیکھ
ٹوٹے ہیں کیسے خواہشوں کے آئنوں کو دیکھ پلکوں کی تہ میں بکھری ہوئی کرچیوں کو دیکھ میں ہوں ترا ہی عکس مرے رنگ پر نہ جا آنکھوں میں جھانک اپنی ہی تنہائیوں کو دیکھ یہ آسماں کے بدلے ہوئے رنگ غور کر ان موسموں کے بپھرے ہوئے تیوروں کو دیکھ سن تو در خیال پہ فردا کی دستکیں خود کا حصار توڑ ...