کبھی میں عالم امکاں سے گزر جاتا ہوں
کبھی میں عالم امکاں سے گزر جاتا ہوں
اور کبھی جسم کی دلدل میں اتر جاتا ہوں
یہ بھرا شہر کبھی مجھ میں سمٹ آتا ہے
کبھی میں شہر میں ہر گام بکھر جاتا ہوں
شہر سے رہتی ہے اک جنگ مسلسل دن بھر
شہر جب ہانپنے لگتا ہے تو گھر جاتا ہوں
اس کشاکش میں ہی ملتا ہے نشاں ہونے کا
جب بھی تکمیل کا احساس ہو مر جاتا ہوں
لے اڑی روشنی ہی جرأت بینائی مری
اب تو میں دن کے اجالے سے بھی ڈر جاتا ہوں
اپنے ذرے ہی نظر آتے ہیں تا حد نظر
اک ذرا سر کو جھکاؤں تو بکھر جاتا ہوں
ایک اک آنکھ میں اپنی ہی کہانی دیکھوں
اپنا چہرہ نظر آتا ہے جدھر جاتا ہوں
شہر سجتے ہیں گذر گاہیں چمک اٹھتی ہیں
اپنے ہی خون میں ڈوبوں تو سنور جاتا ہوں
شامؔ کھلتا ہی نہیں موت کا ہنگام ہے کیا
وقت رک جاتا ہے یا میں ہی ٹھہر جاتا ہوں