جانے اے دوست کیا ہوا ہم کو
جانے اے دوست کیا ہوا ہم کو
تیرا غم بھی نہ اب رہا ہم کو
ہم نہ آئیں کہیں یہ ممکن ہے
آپ دیں تو سہی صدا ہم کو
خشک پتے ہیں ہم نہ جانے کب
لے اڑے باؤلی ہوا ہم کو
کب سے ہیں ہم تو گوش بر آواز
کچھ تو اے خامشی سنا ہم کو
کس لیے خار ہوں تلاش میں ہم
خود ہی ڈھونڈے گا راستہ ہم کو
یوں ہی آ آ کے لپٹے جاتی ہے
جانے کہتی ہے کیا صبا ہم کو
ہو گئی دور سارے دن کی تھکن
شامؔ سے وہ سکوں ملا ہم کو