Madho Kaushik

مادھو کوشک

  • 1954

مادھو کوشک کی غزل

    کیوں شور مچاتے ہو بے کار میں پہلے سے

    کیوں شور مچاتے ہو بے کار میں پہلے سے جب جھوٹ ہی چھپتا ہے اخبار میں پہلے سے ہوتا ہے یہی سب کچھ سنسار میں پہلے سے بکتی ہے محبت بھی بازار میں پہلے سے ہم لوگ سمجھتے تھے کہ ہم ہیں یہاں اول کچھ لوگ چنے پائے دیوار میں پہلے سے بس ہاتھ سے چھونے پر محسوس تمہیں ہوگا سویا ہے کوئی دریا انگار ...

    مزید پڑھیے

    ہر لمحہ بیگانہ ہے

    ہر لمحہ بیگانہ ہے پر کسنے پہچانا ہے جسے موت سب کہتے ہیں دھڑکن کا رک جانا ہے میں کیا میرا میں بھی کیا کیول آب و دانا ہے دنیا سب کچھ سمجھ آئی بس خود کو سمجھانا ہے جھوٹی تاریخیں مت دیکھ جھوٹا آنا جانا ہے میں تجھ سے مایوس نہیں تو میرا افسانہ ہے جیون کی سچائی کیا ہر پل دھوکا ...

    مزید پڑھیے

    جینا اگر ضرورت ہے

    جینا اگر ضرورت ہے مرنا تلخ حقیقت ہے سارے سپنے باغی ہے اپنی اپنی قسمت ہے کتنی غزلیں کہتا ہوں سب زخموں کی شدت ہے اتنی اس کی تنہائی جتنی جس میں ہمت ہے خود سے ملنے بھی آئے کس کو اتنی فرصت ہے تنہائی میں میرے ساتھ دیواریں ہیں یا چھت ہے شور مچاتا پھرتا ہے یہ دریا کی فطرت ہے پیار ...

    مزید پڑھیے

    اپنے دل کا حال سنانا کم سے کم

    اپنے دل کا حال سنانا کم سے کم آنکھوں میں آنسو بھی لانا کم سے کم ملنے والی چیزیں خود مل جاتی ہیں اپنے دامن کو پھیلانا کم سے کم دل کے رشتے دھن دولت پر بھاری ہیں دنیا کے دستور نبھانا کم سے کم رہزنوں بے شک سے تم لوٹو گھر میرا پر سپنوں میں سیندھ لگانا کم سے کم زیادہ جھکنے پر پگڑی گر ...

    مزید پڑھیے

    جدھر بھی دیکھو وہیں نظر میں تنہائی

    جدھر بھی دیکھو وہیں نظر میں تنہائی پھیلا گئی ہے پورے گھر میں تنہائی بھیڑ بہت ہے لیکن مجھ کو لگتا ہے صرف چلے گی ساتھ سفر میں تنہائی آنے والی پیڑھی کی قسمت دیکھو انہیں ملیں گے نگر نگر میں تنہائی پتے بھی ہلتے ہیں پر خاموشی سے ڈھونڈ رہی ہے ہوا شجر میں تنہائی من کا خالی پن خالی ہے ...

    مزید پڑھیے

    کوئی رشتہ پرانا ہو گیا ہے

    کوئی رشتہ پرانا ہو گیا ہے تمہیں دیکھے زمانہ ہو گیا ہے تمہاری یاد آتے ہی ذہن میں برا موسم سہانا ہو گیا ہے ہوا کی بے حیائی کیا بتائیں بہت مشکل زمانہ ہو گیا ہے لبوں کو کھولنا بھی جرم ٹھہرا مصیبت مسکرانا ہو گیا ہے ہمارے شہر کا ماحول ایک دم بگڑ کر قاتلانہ ہو گیا ہے یہ کیسے موڑ پر ...

    مزید پڑھیے

    ندی کی ناؤ کی یا حوصلوں کی

    ندی کی ناؤ کی یا حوصلوں کی کہانی تو سناؤ دل جلوں کی جہاں پر راستہ گم ہو گیا تھا وہیں سے راہ نکلی منزلوں کی میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں سنی تھی چیخ میں نے گھائلوں کی سمندر کو نظر آئے نہ آئے اداسی کم نہیں ہے ساحلوں کی کبھی فرصت ملے تو پوچھ لینا بہت مشکل ہے باتیں مشکلوں کی

    مزید پڑھیے

    سفر ٹھہرے تو کچھ منزل کی سوچوں

    سفر ٹھہرے تو کچھ منزل کی سوچوں ذہن خاموش ہو تو دل کی سوچوں گزرتا وقت رکتا ہی کہاں ہے میں کیسے وقت کے حاصل کی سوچوں بہت دن سے طوفانوں میں گھرا ہوں چلو کچھ دیر تو ساحل کی سوچوں یہاں منصف بھی مجرم سا لگے ہے میں کسے امید پر قاتلانہ کی سوچوں کہاں آسان ہے خود کو سمجھنا بڑی مشکل سے اس ...

    مزید پڑھیے