ندی کی ناؤ کی یا حوصلوں کی
ندی کی ناؤ کی یا حوصلوں کی
کہانی تو سناؤ دل جلوں کی
جہاں پر راستہ گم ہو گیا تھا
وہیں سے راہ نکلی منزلوں کی
میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں
سنی تھی چیخ میں نے گھائلوں کی
سمندر کو نظر آئے نہ آئے
اداسی کم نہیں ہے ساحلوں کی
کبھی فرصت ملے تو پوچھ لینا
بہت مشکل ہے باتیں مشکلوں کی