جدھر بھی دیکھو وہیں نظر میں تنہائی

جدھر بھی دیکھو وہیں نظر میں تنہائی
پھیلا گئی ہے پورے گھر میں تنہائی


بھیڑ بہت ہے لیکن مجھ کو لگتا ہے
صرف چلے گی ساتھ سفر میں تنہائی


آنے والی پیڑھی کی قسمت دیکھو
انہیں ملیں گے نگر نگر میں تنہائی


پتے بھی ہلتے ہیں پر خاموشی سے
ڈھونڈ رہی ہے ہوا شجر میں تنہائی


من کا خالی پن خالی ہے کچھ اتنا
دل بھی تنہا اور جگر میں تنہائی


تنہائی سے ڈر جانے کا غم کیسا
مشکل سے ملتی ہے گھر میں تنہائی