کوئی رشتہ پرانا ہو گیا ہے

کوئی رشتہ پرانا ہو گیا ہے
تمہیں دیکھے زمانہ ہو گیا ہے


تمہاری یاد آتے ہی ذہن میں
برا موسم سہانا ہو گیا ہے


ہوا کی بے حیائی کیا بتائیں
بہت مشکل زمانہ ہو گیا ہے


لبوں کو کھولنا بھی جرم ٹھہرا
مصیبت مسکرانا ہو گیا ہے


ہمارے شہر کا ماحول ایک دم
بگڑ کر قاتلانہ ہو گیا ہے


یہ کیسے موڑ پر لے آئی دنیا
حقیقت کا فسانہ ہو گیا ہے