فسوں کر گئی رات پاگل ہوا
فسوں کر گئی رات پاگل ہوا اڑا لے گئی سرخ آنچل ہوا ہوئی جس گھڑی دھول سے دوستی بنی دشت غربت میں بادل ہوا مجھے زندگی اک گلستاں لگے دکھا چل کے اب اس کو جنگل ہوا جلا دے ارادوں کے طوفان کو بجھا دے اگر تیری مشعل ہوا سڑک پر بدن اک پڑا دیکھ کر چلی گھوم کر سوئے مقتل ہوا خوشی کے چراغوں نے ...