M Kothiyavi Rahi

ایم کوٹھیاوی راہی

  • 1935 - 2005

ایم کوٹھیاوی راہی کی غزل

    فسوں کر گئی رات پاگل ہوا

    فسوں کر گئی رات پاگل ہوا اڑا لے گئی سرخ آنچل ہوا ہوئی جس گھڑی دھول سے دوستی بنی دشت غربت میں بادل ہوا مجھے زندگی اک گلستاں لگے دکھا چل کے اب اس کو جنگل ہوا جلا دے ارادوں کے طوفان کو بجھا دے اگر تیری مشعل ہوا سڑک پر بدن اک پڑا دیکھ کر چلی گھوم کر سوئے مقتل ہوا خوشی کے چراغوں نے ...

    مزید پڑھیے

    کاجل شام کی آنکھ سے ڈھلکے آنچل تیرے شانے سے

    کاجل شام کی آنکھ سے ڈھلکے آنچل تیرے شانے سے اور ذرا غم بھی لے آئیں یادوں کے ویرانے سے کیا اس نے سوچا ہوگا جب خط میرا پہنچا ہوگا سوچ رہا ہوں دیکھ آؤں میں جا کر کسی بہانے سے چاہت کے دو بدن شہر میں الگ الگ کیوں رہتے ہیں ٹکرانے کی ہمت بھی تھی جب بے درد زمانے سے سونے چاندی کی دیواریں ...

    مزید پڑھیے

    جلے گا چاند ستارے دھواں اڑائیں گے

    جلے گا چاند ستارے دھواں اڑائیں گے ہمارے خواب تری آنکھ میں جب آئیں گے مری نظر سے وہ چہرے اتر نہیں سکتے جنہیں یہ اہل نظر جلد بھول جائیں گے غزل سناؤ بہلنا بہت ضروری ہے ہنسیں گے لوگ ہم آنسو اگر بہائیں گے پھر آئی شام درختوں پہ گھونسلے جاگے مگر ہم آج بھی اے دوست گھر نہ جائیں گے اداس ...

    مزید پڑھیے

    ہجر کا چاند درد کی ندی

    ہجر کا چاند درد کی ندی یہی صورت ہے اپنی دنیا کی ریگزاروں میں سنگ کھلتے ہیں جیسے باغوں میں شاخ شاخ کلی میرا گھر ہے کہ میرؔ صاحب کا اف یہ ہونٹوں پہ تلخ تلخ ہنسی آ گیا موسم زمستاں کیا آگ کی جستجو میں رات کٹی کو بہ کو در بہ در بھٹکتے ہوئے دیکھ لی آج موت کی بھی گلی قفل ہونٹوں کا ٹوٹ ...

    مزید پڑھیے

    اک انجان راہ پر دونوں

    اک انجان راہ پر دونوں مل گئے آج بے خطر دونوں پھول ہے ایک ایک پتھر ہے بن گئے کیسے ہم سفر دونوں فاصلے ایسے کم نہیں ہوں گے چھوڑ دیں اپنا اپنا گھر دونوں ٹکریں لے رہے ہیں دنیا سے دل میں رکھتے نہیں ہیں ڈر دونوں تاڑ لیتے ہیں تاڑنے والے گو ملاتے نہیں نظر دونوں رات اک دوسرے میں ڈوب ...

    مزید پڑھیے

    رستہ کسی وحشی کا ابھی دیکھ رہا ہے

    رستہ کسی وحشی کا ابھی دیکھ رہا ہے یہ پیڑ جو اس راہ میں صدیوں سے کھڑا ہے غربت کے اندھیرے میں تری یاد کے جگنو چمکے ہیں تو راہوں کا سفر اور بڑھا ہے دنیا سے الگ ہو کے گزرتی ہے جوانی حالاں کہ یہ ممکن نہیں پرکھوں سے سنا ہے چاہت جو جنوں کے لیے زنجیر بنی تھی آج اس کو بھی وحشت نے مری توڑ ...

    مزید پڑھیے

    یاس مکان دل سے نکل کر کونے کونے جلنے والی

    یاس مکان دل سے نکل کر کونے کونے جلنے والی درماندہ سی لوٹ آئی ہے رات ہے شاید ڈھلنے والی تم کو ہماری چاہ نہیں ہے جب سے یہ وشواس ہوا ہے ہر تحریر جلا ڈالی ہے سوچ ہے روپ بدلنے والی چاند کی خودداری سے میں اب درس خود آگہی لیتا ہوں ورنہ یہ مایوسی کی ظلمت صدیوں سے تھی بدلنے والی گیتوں کو ...

    مزید پڑھیے

    تمہارے پیکر سے پھوٹنے والی روشنی میری راہ میں ہے

    تمہارے پیکر سے پھوٹنے والی روشنی میری راہ میں ہے یہ فاصلہ اس لئے گوارا کہ اک حقیقت نگاہ میں ہے فصیل غم گر گئی تو کس سے لپٹ کے روئیں گے شہر یاراں یہ سوچ کر جھوم اٹھا ہوں یارو کہ غم خود اپنی پناہ میں ہے میں زندگی تج کے آ رہا ہوں اسی لئے مسکرا رہا ہوں ذرا بتاؤ کہ کس لئے اب کجی تمہاری ...

    مزید پڑھیے

    اے دشت شب گزار تری آس کا ہرن

    اے دشت شب گزار تری آس کا ہرن کھائی میں یاس کی جو گرا رو پڑی پون جا کر دیار مرگ میں چھوڑ آئیے اسے جو گھومتا ہے اوڑھے ہوئے درد کا کفن اب تجھ سے ہی جلاؤں گا یہ گل شدہ چراغ اے ٹمٹماتی رات ڈھلے چاند کی کرن اب تیرے خط کو ڈھونڈ رہا ہوں ورق ورق اکتا چکا ہے حرف و حکایت سے میرا من آواز آ ...

    مزید پڑھیے

    گھوموں نہیں تو کیا میں کہیں جا کے پڑ رہوں

    گھوموں نہیں تو کیا میں کہیں جا کے پڑ رہوں بیمار آدمی کی طرح رات کاٹ دوں دیکھے گا آج میری طرف کون پیار سے بجھتا ہوا چراغ ہوں پت جھڑ کا چاند ہوں تصویر بن کے دیکھ رہا ہوں جہان کو تو ہی بتا کہ اور میں اب کیسے چپ رہوں شیریں ہے زہر موت کا اے تلخیٔ حیات جی چاہتا ہے آج ترا جام توڑ دوں اس ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2