فسوں کر گئی رات پاگل ہوا
فسوں کر گئی رات پاگل ہوا
اڑا لے گئی سرخ آنچل ہوا
ہوئی جس گھڑی دھول سے دوستی
بنی دشت غربت میں بادل ہوا
مجھے زندگی اک گلستاں لگے
دکھا چل کے اب اس کو جنگل ہوا
جلا دے ارادوں کے طوفان کو
بجھا دے اگر تیری مشعل ہوا
سڑک پر بدن اک پڑا دیکھ کر
چلی گھوم کر سوئے مقتل ہوا
خوشی کے چراغوں نے سمجھا ہے کب
تجھے اے شب غم کی بوجھل ہوا
لہو رات کی رات گرتا رہا
رہی رات کی رات جل تھل ہوا