یاس مکان دل سے نکل کر کونے کونے جلنے والی
یاس مکان دل سے نکل کر کونے کونے جلنے والی
درماندہ سی لوٹ آئی ہے رات ہے شاید ڈھلنے والی
تم کو ہماری چاہ نہیں ہے جب سے یہ وشواس ہوا ہے
ہر تحریر جلا ڈالی ہے سوچ ہے روپ بدلنے والی
چاند کی خودداری سے میں اب درس خود آگہی لیتا ہوں
ورنہ یہ مایوسی کی ظلمت صدیوں سے تھی بدلنے والی
گیتوں کو دفنا دو یہیں پر چیخوں کے اسلوب جنم دو
ہنگاموں کی ریت یہی ہے اور یہی ہے چلنے والی
کیسے کیسے صاحب نظراں سر بہ گریباں گھوم رہے ہیں
آج ہے جانے کس کی سواری فن کے مکاں سے نکلنے والی