اے دشت شب گزار تری آس کا ہرن

اے دشت شب گزار تری آس کا ہرن
کھائی میں یاس کی جو گرا رو پڑی پون


جا کر دیار مرگ میں چھوڑ آئیے اسے
جو گھومتا ہے اوڑھے ہوئے درد کا کفن


اب تجھ سے ہی جلاؤں گا یہ گل شدہ چراغ
اے ٹمٹماتی رات ڈھلے چاند کی کرن


اب تیرے خط کو ڈھونڈ رہا ہوں ورق ورق
اکتا چکا ہے حرف و حکایت سے میرا من


آواز آ رہی ہے فصیل نجات سے
تیری کمی کھٹکتی ہے اے میرے ہم وطن


یزداں خطا معاف گرا جا رہا ہوں میں
پھر آدمی کے بھیس میں آیا ہے اہرمن