کاجل شام کی آنکھ سے ڈھلکے آنچل تیرے شانے سے

کاجل شام کی آنکھ سے ڈھلکے آنچل تیرے شانے سے
اور ذرا غم بھی لے آئیں یادوں کے ویرانے سے


کیا اس نے سوچا ہوگا جب خط میرا پہنچا ہوگا
سوچ رہا ہوں دیکھ آؤں میں جا کر کسی بہانے سے


چاہت کے دو بدن شہر میں الگ الگ کیوں رہتے ہیں
ٹکرانے کی ہمت بھی تھی جب بے درد زمانے سے


سونے چاندی کی دیواریں ڈھ دینا آسان نہ تھا
لیکن تم تو بہک گئے اس دنیا کے بہکانے سے


اجڑ گئی جب پیار کی محفل چلے گئے سب دل والے
تنہا راہے بہل رہا ہے ماضی کے افسانے سے