اک انجان راہ پر دونوں
اک انجان راہ پر دونوں
مل گئے آج بے خطر دونوں
پھول ہے ایک ایک پتھر ہے
بن گئے کیسے ہم سفر دونوں
فاصلے ایسے کم نہیں ہوں گے
چھوڑ دیں اپنا اپنا گھر دونوں
ٹکریں لے رہے ہیں دنیا سے
دل میں رکھتے نہیں ہیں ڈر دونوں
تاڑ لیتے ہیں تاڑنے والے
گو ملاتے نہیں نظر دونوں
رات اک دوسرے میں ڈوب گئے
ہو گئے خود سے بے خبر دونوں
ہو کے گمراہ آج کل راہیؔ
پھر رہے ہیں نگر نگر دونوں