Lucky farooqi Hasrat

लकी फ़ारूक़ी हसरत

लकी फ़ारूक़ी हसरत کی غزل

    خوف کی آخری منزل سے بنا کر رکھیے

    خوف کی آخری منزل سے بنا کر رکھیے اس کا مطلب ہے کہ قاتل سے بنا کر رکھیے باہمی ربط میں ہوتی نہیں گنجائش ترک آپ دریا ہیں تو ساحل سے بنا کر رکھیے عقل کہتی ہے محبت سے نہ رکھو نسبت دل یہ کہتا ہے مسائل سے بنا کر رکھیے قیدیٔ زلف کی قسمت میں کہاں آزادی جائیے طوق سلاسل سے بنا کر رکھیے اب ...

    مزید پڑھیے

    یاس کو تیغ مشق سے کاٹے

    یاس کو تیغ مشق سے کاٹے کوئی اس نام کو لکھے کاٹے میری آنکھوں کے سامنے کاٹے جب ترا عکس آئنے کاٹے زندگی کی زمین میں ہم نے اشک بوئے تھے قہقہے کاٹے کچھ تو رفتار بھی مری کم تھی کچھ دعاؤں نے حادثے کاٹے میری آواز کی رسائی نے خامشی کے مغالطے کاٹے سارے چالان حسن والوں نے عشق کے بیریر ...

    مزید پڑھیے

    ساز روتا ہے چیخ گاتی ہے

    ساز روتا ہے چیخ گاتی ہے میرا نغمہ تصوراتی ہے ایک اندھے سے غسل خانے میں چاندنی دھوپ سے نہاتی ہے سن کے تعبیر کے خراٹوں کو خواب کی نیند ٹوٹ جاتی ہے ہجر کو گود میں لٹا کر شب وصل کی لوریاں سناتی ہے میرا لہجہ ہے مثل سودائی اور انداز نفسیاتی ہے سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے جیون کی سانس کی ...

    مزید پڑھیے

    دریائے فکر نو کی روانی میں گر گیا

    دریائے فکر نو کی روانی میں گر گیا سورج پھسل کے برف کے پانی میں گر گیا جس نے چھوا تھا مصرع اول میں آسمان وہ شعر آ کے مصرع ثانی میں گر گیا گنگا میں بہتی راکھ ہے اس بات کی گواہ برگد کا پیڑ ٹوٹ کے پانی میں گر گیا رہزن نے کچھ تو لوٹ لیا رخت زندگی جو کچھ بچا تھا نقل مکانی میں گر گیا نہ ...

    مزید پڑھیے

    تاثیر مختلف کی روانی سے جل گئے

    تاثیر مختلف کی روانی سے جل گئے سورج کے ہونٹھ برف کے پانی سے جل گئے لفظوں کی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے خیال کاغذ پہ آ کے سوز معانی سے جل گئے اب صبح شام کیجیے پانی کی پٹیاں صحرا ہماری تشنہ دہانی سے جل گئے اس شعر کے تھا مصرع اول میں ذکر آب نقاد جس کے مصرع ثانی سے جل گئے کچھ لوگ خاک ہو ...

    مزید پڑھیے

    لفظوں میں آگ بھرنے کا فن لے لیا گیا

    لفظوں میں آگ بھرنے کا فن لے لیا گیا ہم سے ہمارا طرز سخن لے لیا گیا بچے ہوئے جوان تو ماں باپ چل بسے یعنی بہار دے کے چمن لے لیا گیا گاڑی کے نیچے آ گئی مفلس کی زندگی فوری معاوضے میں کفن لے لیا گیا پہلے تو ہم کو دی گئی مانگے بغیر روح پھر کچھ کہے بغیر بدن لے لیا گیا اک دستخط سے ہو ...

    مزید پڑھیے

    ہنر غیب کی تفسیر بنے بیٹھے ہیں

    ہنر غیب کی تفسیر بنے بیٹھے ہیں سب یہاں میرؔ تقی میرؔ بنے بیٹھے ہیں میرے کمرے کی خموشی کا گلہ واجب ہے آپ تصویر میں تصویر بنے بیٹھے ہیں اپنے الجھے ہوئے بالوں کو سنوارو جاناں یہ مرے پاؤں کی زنجیر بنے بیٹھے ہیں اتنی اونچی ہے مرے سر پہ رکھی قیمت کہ گل صفت لوگ بھی شمشیر بنے بیٹھے ...

    مزید پڑھیے

    تلخ سازی نے ہمیں غم کے سوا کچھ نہ دیا

    تلخ سازی نے ہمیں غم کے سوا کچھ نہ دیا بے نیازی نے ہمیں غم کے سوا کچھ نہ دیا ہم کوئی کرشن نہیں تھے کی تھرکتی رادھا نے نوازی نے ہمیں غم کے سوا کچھ نہ دیا یہ کٹے ہاتھ یہ ناسور بدن شاہد ہیں تیغ بازی نے ہمیں غم کے سوا کچھ نہ دیا اس کے ہونٹوں میں کئی رنگ تھے رسوائی کے بوسہ بازی نے ہمیں ...

    مزید پڑھیے

    کبھی آنکھیں کبھی رخسار و ذقن نوچتی ہے

    کبھی آنکھیں کبھی رخسار و ذقن نوچتی ہے اب مری روح فقط میرا بدن نوچتی ہے صبح کی چائے میں ہوتی ہے وہ تاثیر غضب جو گئی رات کے چہرے سے تھکن نوچتی ہے اپنی مرضی سے طوائف نہیں بنتی عورت مفلسی بھوک کی جانب سے بدن نوچتی ہے باہمی ربط کے جلوے بھی عجب ہوتے ہیں میں گھٹن کو تو کبھی مجھ کو گھٹن ...

    مزید پڑھیے

    عشق تاروں سے نہ مہتاب سے دل داری کی

    عشق تاروں سے نہ مہتاب سے دل داری کی رات نے دھوپ کے بستر پہ سیہ کاری کی میں وہ دہقان جنوں خیز ہوں جس نے اپنے جسم کے کھیت میں زخموں کی شجرکاری کی مدتوں لٹکی رہی موم کی زنجیر سے لاش برف کے سوکھے ہوئے پیڑ پہ چنگاری کی چند سانسوں کے لئے اپنا مداوا کرکے تو نے امراض خداداد سے غداری ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2