تاثیر مختلف کی روانی سے جل گئے
تاثیر مختلف کی روانی سے جل گئے
سورج کے ہونٹھ برف کے پانی سے جل گئے
لفظوں کی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے خیال
کاغذ پہ آ کے سوز معانی سے جل گئے
اب صبح شام کیجیے پانی کی پٹیاں
صحرا ہماری تشنہ دہانی سے جل گئے
اس شعر کے تھا مصرع اول میں ذکر آب
نقاد جس کے مصرع ثانی سے جل گئے
کچھ لوگ خاک ہو گئے ہجرت کی آگ سے
کچھ لوگ شوق نقل مکانی سے جل گئے
آواز کے درخت کا معیار کیا گرا
ہونٹوں کے پھول تلخ بیانی سے جل گئے