کبھی آنکھیں کبھی رخسار و ذقن نوچتی ہے
کبھی آنکھیں کبھی رخسار و ذقن نوچتی ہے
اب مری روح فقط میرا بدن نوچتی ہے
صبح کی چائے میں ہوتی ہے وہ تاثیر غضب
جو گئی رات کے چہرے سے تھکن نوچتی ہے
اپنی مرضی سے طوائف نہیں بنتی عورت
مفلسی بھوک کی جانب سے بدن نوچتی ہے
باہمی ربط کے جلوے بھی عجب ہوتے ہیں
میں گھٹن کو تو کبھی مجھ کو گھٹن نوچتی ہے
لوگ کہتے تھے غریبی جسے صدیوں پہلے
وہ بلا آج بھی لاشوں کے کفن نوچتی ہے
گر علاوہ ترے آتا ہے کسی اور کا خواب
رات بھر آنکھ کی پتلی کو چبھن نوچتی ہے