تلخ سازی نے ہمیں غم کے سوا کچھ نہ دیا
تلخ سازی نے ہمیں غم کے سوا کچھ نہ دیا
بے نیازی نے ہمیں غم کے سوا کچھ نہ دیا
ہم کوئی کرشن نہیں تھے کی تھرکتی رادھا
نے نوازی نے ہمیں غم کے سوا کچھ نہ دیا
یہ کٹے ہاتھ یہ ناسور بدن شاہد ہیں
تیغ بازی نے ہمیں غم کے سوا کچھ نہ دیا
اس کے ہونٹوں میں کئی رنگ تھے رسوائی کے
بوسہ بازی نے ہمیں غم کے سوا کچھ نہ دیا
ہر تبسم کے تعاقب میں کئی آنسو ہیں
دل نوازی نے ہمیں غم کے سوا کچھ نہ دیا
جسم پرہیز کی تشہیر بنا بیٹھا ہے
چارہ سازی نے ہمیں غم کے سوا کچھ نہ دیا
کوئی مہرہ نہ ظفر یاب ہوا چاہت کا
دل کی بازی نے ہمیں غم کے سوا کچھ نہ دیا
دل کی مسجد میں تری یاد ہے پابند صلوٰۃ
اس نمازی نے ہمیں غم کے سوا کچھ نہ دیا