اتنی مشکل میں بھی احباب نہ ڈالیں مجھ کو

اتنی مشکل میں بھی احباب نہ ڈالیں مجھ کو
کہ سنبھلنا بھی نہ چاہوں تو سنبھالیں مجھ کو


غم دوراں غم جاناں غم جاں ایک ہوئے
ڈر رہا ہوں یہ کہیں مار نہ ڈالیں مجھ کو


منفرد میری طبیعت ہے یہ حالات کہیں
روش عام کے سانچے میں نہ ڈھالیں مجھ کو


میں تو اس پر بھی ہوں راضی کہ ترے شہر کے لوگ
میرے بنتے نہیں اپنا ہی بنا لیں مجھ کو


آپ مجھ سے کسی تعبیر کی پھر بات کریں
پہلے اس خواب تمنا سے جگا لیں مجھ کو


نہیں معلوم کہ کل تک میں رہوں یا نہ رہوں
مہرباں آج ہی جی بھر کے ستا لیں مجھ کو


گردشوں کے لئے اب تک نہ یہ ممکن نہ ہوا
کسی صورت مرے محور سے ہٹا لیں مجھ کو


ان بلندی کے مکینوں کو میسر ہی نہیں
لیثؔ وہ ہاتھ جو پستی سے اٹھا لیں مجھ کو