بے قصد سفر جاتے ہیں معلوم نہیں کیوں
بے قصد سفر جاتے ہیں معلوم نہیں کیوں
پھر خود ہی ٹھہر جاتے ہیں معلوم نہیں کیوں
ہم پیار سے جینے کی دعا دیتے ہیں جن کو
وہ لوگ بھی مر جاتے ہیں معلوم نہیں کیوں
کچھ لوگ تجھے دیکھ کے اے فصل بہاراں
با دیدۂ تر جاتے ہیں معلوم نہیں کیوں
اک وہم سمجھتے تھے حقیقت کو جو کل تک
اب خواب سے ڈر جاتے ہیں معلوم نہیں کیوں
اترے ہوئے چہروں کو بھی یہ کہتے سنا ہے
کچھ ہم سے بھی ڈر جاتے ہیں معلوم نہیں کیوں
اک سلسلہ اشک ہے شبنم مگر اس سے
گلزار نکھر جاتے ہیں معلوم نہیں کیوں
منزل کی طرف راہ محبت کے مسافر
بے رخت سفر جاتے ہیں معلوم نہیں کیوں
کچھ دیکھ کے کچھ سوچ کے کچھ لوگ جہاں سے
چپ چاپ گزر جاتے ہیں معلوم نہیں کیوں
کشتی کو ڈبو کر اسی کشتی کے محافظ
خود پار اتر جاتے ہیں معلوم نہیں کیوں
گھر میں کوئی آرام کی صورت نہیں پھر بھی
تھک ہار کے گھر جاتے ہیں معلوم نہیں کیوں
ہاں عکس رخ سنگ زدہ سے بھی تو اے لیثؔ
آئینے سنور جاتے ہیں معلوم نہیں کیوں