تیری جفا ہوئی کہ جہاں کا غضب ہوا

تیری جفا ہوئی کہ جہاں کا غضب ہوا
ہم پر تو جو ستم بھی ہوا بے سبب ہوا


اس ساعت سعید کو کیا نام دیجئے
انساں اسیر وقت کے زنداں میں جب ہوا


شعلہ صفت ہیں رقص میں اپنے چمن کے پھول
اس عالم‌ بہار میں یہ کیا غضب ہوا


شاید یہی مذاق طلب کی ہے انتہا
دنیائے رنگ و بو میں بھی دل بے طلب ہوا


منصف کو مصلحت کی زباں راس آ گئی
گو فیصلہ ہوا مگر انصاف کب ہوا


اس کو نصیب ہو نہ سکا رشتۂ خلوص
جو قائل قضیۂ حسب و نسب ہوا


جاری ہے ایک تیرگی و روشنی کی جنگ
جب سے شعور سلسلۂ روز و شب ہوا


حد نگاہ تک کہیں شعلے کہیں دھواں
یہ خاک و خوں کا کھیل گلستاں میں کب ہوا


اس حادثے پہ آپ کا جو تبصرہ بھی ہو
میں آشنائے محفل عیش و طرب ہوا


کیسے ہو تم کو لذت آزاد جاں نصیب
دشوار مرحلوں سے گزرنا ہی کب ہوا


کتنے عظیم لوگ تہ خاک ہو گئے
تو بھی ہوا جو لیثؔ تو پھر کیا عجب ہوا