قافیے آتے گئے
قافیے آتے گئے اور میں انہیں پیہم پروتا ہی گیا افکار میں اس لیے برجستگی کا رنگ اور آہنگ ہے میرے حسین و دل نشیں اشعار میں آ گئی اسلوب کی شائستگی اور فن کی آگہی اور وقار و وزن پیدا ہو گیا کردار میں
قافیے آتے گئے اور میں انہیں پیہم پروتا ہی گیا افکار میں اس لیے برجستگی کا رنگ اور آہنگ ہے میرے حسین و دل نشیں اشعار میں آ گئی اسلوب کی شائستگی اور فن کی آگہی اور وقار و وزن پیدا ہو گیا کردار میں
چاہتوں کا جہان ہے اردو راحتوں کا نشان ہے اردو عشق کا اعتبار اور وقار حسن کی آن بان ہے اردو دل فزا ضو کدہ صباحت کا اور ملاحت کی کان ہے اردو نثر کا ہے خرام خوش ہنگام شاعری کی اڑان ہے اردو زندہ ہے اپنا ذوق و شوق اس سے آرزوؤں کی جان ہے اردو لطف ہستی کا رنگ مستی کا خوش نما کاروان ہے ...
نیند تو اک بیراگن ہے جس کو زرداروں نیتاؤں راجاؤں کی آنکھوں کے راج بھون بھاتے ہی نہیں مہابھارت
غمزدہ رات کی تنہائی میں یہ اداس اور فسردہ برگد مجھ کو اک بھوت نظر آتا ہے اس کی شاخیں یہ چمکتے خنجر دیر سے میرے لہو کے پیاسے دفعتاً میری طرف بڑھتے ہیں آج کی رات نہ بچ پاؤں گا دم بخود سویا بھی ہوں جاگا بھی کوئی پتہ جو کھڑک جاتا ہے دل بے تاب دھڑک جاتا ہے
یہ اک باغی مفکر کا جنازہ ہے ہلا ڈالا تھا اپنی کافرانہ فکر سے جس نے یکایک ساری دنیا کو فقط بیس آدمی ہم راہ ہیں اس کے جنازے کے زمانہ جس کی قدر و منزلت کرتا تھا اور جس کے خیالوں سے سنورتا تھا وہ باغی جا رہا ہے آج اکیلا ایک البیلا مسافر تھا کروڑوں مومنوں پر تھا جو بھاری ایسا کافر ...
کیسے کیسے وہم پلتے ہیں بشر کے ذہن میں بھی چند جرعے شیر کا خوں نوش کرنا رات کو میتھن سے پہلے یا کشادہ چاندنی میں کیف اندوز وصال شوق ہونا وجہ اولاد نرینہ اور پھر بقراط نے بھی یہ کہا تھا مرد اپنے دائیں خصیے پر جو رسی باندھ لے ملنے سے پہلے اس کی عورت شرطیہ لڑکا جنے گی لیکن اس انداز کی ...
جسم پتہ ہے پھیلی رگیں خواہشیں رنجشیں کاہشیں موت اک بھوت ہے زندگی میگھ دوت وہ بھی ہے اک دھواں یہ بھی ہے اک دھواں اک ہوا اس دھوئیں میں یہ پتہ اڑے جا بجا اس دھوئیں میں یہ پہنچے نہ جانے کہاں
جسم کا جس روپ کا رس کام کا کس زندگی کی یہ سہانی دھوپ بہلاتی رہی ہے میرے من کو خوب گرماتی رہی ہے آرزوؤں کی پون کو اور چمکاتی رہی ہے اپنے پن کو دے کے اک نشہ نین کو لذتوں میں ڈوب کر بھی میں ابھرتا ہی رہا ہوں سوچ کی بے تاب لہریں ذہن میں رقصاں رہی ہیں لیکن اب تو اک اداسی چھا گئی ہے سوچ ...
کنفیوشیش نے کہا تھا ہو نہ چھٹکارا زنا بالجبر سے تو ہار مانو لیٹ جاؤ لطف اٹھاؤ اور اسے مقسوم جانو اور گاندھی نے کہا ہے ایسی مشکل پیش آ جائے تو فوراً کاٹ لو اپنی زباں کو اور نفس کو روک لو حتٰی کی دم جائے نکل اور ہو رہائی کس کو سمجھیں کس کی مانیں