دھند کی کائنات کرشن موہن 07 ستمبر 2020 شیئر کریں جسم پتہ ہے پھیلی رگیں خواہشیں رنجشیں کاہشیں موت اک بھوت ہے زندگی میگھ دوت وہ بھی ہے اک دھواں یہ بھی ہے اک دھواں اک ہوا اس دھوئیں میں یہ پتہ اڑے جا بجا اس دھوئیں میں یہ پہنچے نہ جانے کہاں