دھند کی کائنات

جسم پتہ ہے پھیلی رگیں خواہشیں
رنجشیں کاہشیں
موت اک بھوت ہے
زندگی میگھ دوت
وہ بھی ہے اک دھواں
یہ بھی ہے اک دھواں اک ہوا
اس دھوئیں میں یہ پتہ اڑے جا بجا
اس دھوئیں میں یہ پہنچے نہ جانے کہاں