Krishna Mohan

کرشن موہن

کرشن موہن کی نظم

    بیضۂ محرم

    عہد پارینہ میں بھی زیست پر تھا وہم کا کتنا اثر ایک اوریکل کی تلقیں مان کر شاہ آگستس کی بیوی لیویاؔ اپنی انگیا کی فضائے گرم میں رکھتی تھی اک مرضی کا انڈا روز و شب اس کو یہ وشواس تھا اس کے ہونے والے بچے اور اس چوزے کی جنس ایک ہوگی آخرش یوں ہی ہوا آشیاں گرم و شوخ و نرم سے ایک نر نکلا تو ...

    مزید پڑھیے

    سڑک

    سڑک بے دھڑک ہم سفر ہے چلی جا رہی ہے کہ بس منزل شوق حد نظر ہے کئی ہم سفر رہ گئے راستے میں مگر یہ رواں ہے ہمیشہ شجر شہر ندی مسافر ہر اک سے اسے پیار سا ہے ملن کہ کئی حسرتیں اپنے اندر سمیٹے کڑے فاصلوں کی مسافت لپیٹے یونہی لیٹے لیٹے چلی جا رہی ہے سجھاتی ہوئی ہم سفر کو جہاں بھی تو اک رہ ...

    مزید پڑھیے

    خدا

    کائنات ایک کھلونا ہی تو ہے مالک اس کا ہے وہ ضدی بچہ جس کو ہم لوگ خدا کہتے ہیں

    مزید پڑھیے

    گیان مارگ

    ضیائے راز کو آکاش میں تلاش نہ کر کہ یہ ہے روح کی گہرائیوں میں رخشندہ ہماری روح میں آکاش ہے جو تابندہ وشال جھیل ہے نرمل ہے جس کا چنچل جل کھلے ہوئے ہیں حقیقت کے جس میں نیل کمل دل وجود کا درک دروں ہے راہ نجات کمال عشق ہے بیزار رنگ ظاہر سے مجاز و ساز نیاز و گداز کیا جانے رسوم سطح سے ...

    مزید پڑھیے

    کج روی کا اشتہار

    میں تو ہوں شاعر کی روح شاعر کی خاصیت ایک خوشبو اک طلسم اور مرا بیٹا کہ ہے شاعر کا جسم شاعروں کی خصلتوں کا آئنہ کج روی کا اشتہار ہے سمیٹے اپنے اندر عیب کی ہر ایک قسم ناسمجھ آوارہ و بے کار شیدائے قمار آشناؤں کا مصاحب کم عیار ہر زہ گو بادہ گسار کاش میں ہوتا شرابی اور کبابی اور وہ ...

    مزید پڑھیے

    نقطوں کی کشمکش

    قافیوں سے کوئی چھٹکارا دلائے بن گئی تکلیف جاں مجھ کو ردیف بحر ہے ہر وقت دل میں موجزن (قافیے کی آزمائش سے گزر قافیہ پیما نہ بن قافیے نے آ دبوچا قافیہ پیما نہ ہو) کھردرے پن کو ترستی ہے زباں کیوں منجھی ہیں اس قدر نظمیں مری کیوں سجی ہے اس قدر میری غزل (قافیے کو روک پھر آنے لگا) ذہن ہے ...

    مزید پڑھیے

    زنا بالجبر

    کنفیوشیس نے کہا تھا ہو نہ چھٹکارا زنا بالجبر سے تو ہار مانو لیٹ جاؤ لطف اٹھاؤ اور اسے مقسوم جانو اور گاندھی نے کہا ہے ایسی مشکل پیش آ جائے تو فوراً کاٹ لو اپنی زباں کو اور نفس کو روک لو حتٰی کہ دم جائے نکل اور ہو رہائی کس کو سمجھیں کس کی مانیں

    مزید پڑھیے

    اندر کا چمکیلا ہیرا

    کتنے دنوں تک راجا کے دربار میں اک سادھو آتا تھا جو اس کو روز اک پھل دے جاتا تھا راجا بے حس بے پروا سا اس پھل کو مخزن کے اک کونے میں پھینک دیا کرتا تھا اک دن جب وہ سادھو آیا راجا کے بندر نے اس سے وہ پھل چھینا اور جو کھایا تو اس میں سے ایک چمکتا ہیرا نکلا راجا حیراں سادھو غائب راجا پھر ...

    مزید پڑھیے

    تخلیق

    رات زلفوں کی دل آویز شمیم صحبت شوق کو گرماتی رہی شاہد شوخ کا پیکر تھا خیال گرم اعضا کا گداز لذت غمزہ و ناز چھڑ گئے ساز کے تار یوں مچلتی تھیں امنگیں میری جیسے گردوں پہ ستارے چمکیں خالق زیست کو اک شرم سی محسوس ہوئی اک نئے کرب تمنا کا سہارا لے کر خواب راحت سے اٹھا اور آمادۂ پیکار ...

    مزید پڑھیے

    دلدل

    مرا ذہن بنتا چلا جا رہا ہے خیالات فاسد کی دلدل کہ محسوس ہونے لگا ہے مری زندگی میں رہے گی ہمیشہ ہوس کار فرما ہو سرما کہ گرما کبھی پیاس بجھتی نہیں ہے پیوں جتنی مے فسون ملاقات ہے باعث بے قراری جنون ملاقات رہتا ہے طاری کہ اکثر ملاقات ہوتی ہے لیکن ملاقات کو جی ترستا ہے پیہم کئی بار اس ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2