Krishna Mohan

کرشن موہن

کرشن موہن کے تمام مواد

13 غزل (Ghazal)

    ملا ایک گونہ سکوں ہمیں جو تمہارے ہجر میں رو لیے

    ملا ایک گونہ سکوں ہمیں جو تمہارے ہجر میں رو لیے ذرا بار قلب سبک ہوا کئی داغ درد کے دھو لیے ہو نشاط دل کہ ملال دل ہمیں پیش کرنا جمال دل کبھی ہنس کے پھول کھلا لیے کبھی روکے موتی پرو لیے ہے رہین غم مری جستجو یہ ہے کیسا گلشن رنگ و بو یہاں کچھ گلو کی تلاش میں کئی خار میں نے چبھو ...

    مزید پڑھیے

    ہم تو اب جاتی رتیں ہیں ہم سے یہ اغماض کیوں

    ہم تو اب جاتی رتیں ہیں ہم سے یہ اغماض کیوں جرم کیا ہم نے کیا ہے آپ ہیں ناراض کیوں مال و زر سے بہرہ وافر نہ دینا تھا اگر اے خدا تو نے دیا مجھ کو دل فیاض کیوں رشتہ زر رشتہ خوں سے ہے بڑھ کر معتبر ورنہ چاہت کے لیے قرضہ بنے مقراض کیوں خویش بینی جب کہ اس کا کیش کم اندیش تھا دوستی کا پاس ...

    مزید پڑھیے

    کوئی امید نہ بر آئی شکیبائی کی

    کوئی امید نہ بر آئی شکیبائی کی اس نے باتوں میں بہت حاشیہ آرائی کی عشق دن رات رہا کیف و طرب میں سرشار حسن نے سلطنت عشق پہ دارائی کی نہ ملا پر نہ ملا اپنے مسائل کا حل آستانوں پہ بہت ہم نے جبیں سائی کی آہ اے سوز دروں میرے جنوں سے اب تک منزلیں سر نہ ہوئیں بادیہ پیمائی کی سوچ کا لوچ ...

    مزید پڑھیے

    نالۂ صبح کے بغیر گریۂ شام کے بغیر

    نالۂ صبح کے بغیر گریۂ شام کے بغیر ہوتا نہیں وصال یار سوز دوام کے بغیر تو نے اگر کیا نہ یاد شق رہے گا نامراد کیسے کٹے گی زندگی تیرے پیام کے بغیر ہے یہ مرا ہی حوصلہ کرتا ہوں روز سامنا گردش صبح و شام کا گردش جام کے بغیر عرصہ ہوا وہ فتنہ گر آیا نہیں کبھی ادھر سونی پڑی ہے رہگزر حسن ...

    مزید پڑھیے

    دل کی رکھنا دیکھ بھال اے دلبر رنگیں جمال

    دل کی رکھنا دیکھ بھال اے دلبر رنگیں جمال ہے بہت نازک یہ شیشہ اس میں آ جائے نہ بال آرزو مندی میں بھی مشکل پسندی کا جنوں دل اسی کو چاہتا ہے جس کا ملنا ہے محال اک فقیر بے نوا نے مجھ کو سمجھایا یہ راز درد کی دولت کے آگے ہیچ ہیں مال و منال اپنی کم ظرفی کا غم ہے اور کوئی غم نہیں دل سے ...

    مزید پڑھیے

تمام

19 نظم (Nazm)

    بیضۂ محرم

    عہد پارینہ میں بھی زیست پر تھا وہم کا کتنا اثر ایک اوریکل کی تلقیں مان کر شاہ آگستس کی بیوی لیویاؔ اپنی انگیا کی فضائے گرم میں رکھتی تھی اک مرضی کا انڈا روز و شب اس کو یہ وشواس تھا اس کے ہونے والے بچے اور اس چوزے کی جنس ایک ہوگی آخرش یوں ہی ہوا آشیاں گرم و شوخ و نرم سے ایک نر نکلا تو ...

    مزید پڑھیے

    سڑک

    سڑک بے دھڑک ہم سفر ہے چلی جا رہی ہے کہ بس منزل شوق حد نظر ہے کئی ہم سفر رہ گئے راستے میں مگر یہ رواں ہے ہمیشہ شجر شہر ندی مسافر ہر اک سے اسے پیار سا ہے ملن کہ کئی حسرتیں اپنے اندر سمیٹے کڑے فاصلوں کی مسافت لپیٹے یونہی لیٹے لیٹے چلی جا رہی ہے سجھاتی ہوئی ہم سفر کو جہاں بھی تو اک رہ ...

    مزید پڑھیے

    خدا

    کائنات ایک کھلونا ہی تو ہے مالک اس کا ہے وہ ضدی بچہ جس کو ہم لوگ خدا کہتے ہیں

    مزید پڑھیے

    گیان مارگ

    ضیائے راز کو آکاش میں تلاش نہ کر کہ یہ ہے روح کی گہرائیوں میں رخشندہ ہماری روح میں آکاش ہے جو تابندہ وشال جھیل ہے نرمل ہے جس کا چنچل جل کھلے ہوئے ہیں حقیقت کے جس میں نیل کمل دل وجود کا درک دروں ہے راہ نجات کمال عشق ہے بیزار رنگ ظاہر سے مجاز و ساز نیاز و گداز کیا جانے رسوم سطح سے ...

    مزید پڑھیے

    کج روی کا اشتہار

    میں تو ہوں شاعر کی روح شاعر کی خاصیت ایک خوشبو اک طلسم اور مرا بیٹا کہ ہے شاعر کا جسم شاعروں کی خصلتوں کا آئنہ کج روی کا اشتہار ہے سمیٹے اپنے اندر عیب کی ہر ایک قسم ناسمجھ آوارہ و بے کار شیدائے قمار آشناؤں کا مصاحب کم عیار ہر زہ گو بادہ گسار کاش میں ہوتا شرابی اور کبابی اور وہ ...

    مزید پڑھیے

تمام