Krishna Mohan

کرشن موہن

کرشن موہن کی غزل

    ملا ایک گونہ سکوں ہمیں جو تمہارے ہجر میں رو لیے

    ملا ایک گونہ سکوں ہمیں جو تمہارے ہجر میں رو لیے ذرا بار قلب سبک ہوا کئی داغ درد کے دھو لیے ہو نشاط دل کہ ملال دل ہمیں پیش کرنا جمال دل کبھی ہنس کے پھول کھلا لیے کبھی روکے موتی پرو لیے ہے رہین غم مری جستجو یہ ہے کیسا گلشن رنگ و بو یہاں کچھ گلو کی تلاش میں کئی خار میں نے چبھو ...

    مزید پڑھیے

    ہم تو اب جاتی رتیں ہیں ہم سے یہ اغماض کیوں

    ہم تو اب جاتی رتیں ہیں ہم سے یہ اغماض کیوں جرم کیا ہم نے کیا ہے آپ ہیں ناراض کیوں مال و زر سے بہرہ وافر نہ دینا تھا اگر اے خدا تو نے دیا مجھ کو دل فیاض کیوں رشتہ زر رشتہ خوں سے ہے بڑھ کر معتبر ورنہ چاہت کے لیے قرضہ بنے مقراض کیوں خویش بینی جب کہ اس کا کیش کم اندیش تھا دوستی کا پاس ...

    مزید پڑھیے

    کوئی امید نہ بر آئی شکیبائی کی

    کوئی امید نہ بر آئی شکیبائی کی اس نے باتوں میں بہت حاشیہ آرائی کی عشق دن رات رہا کیف و طرب میں سرشار حسن نے سلطنت عشق پہ دارائی کی نہ ملا پر نہ ملا اپنے مسائل کا حل آستانوں پہ بہت ہم نے جبیں سائی کی آہ اے سوز دروں میرے جنوں سے اب تک منزلیں سر نہ ہوئیں بادیہ پیمائی کی سوچ کا لوچ ...

    مزید پڑھیے

    نالۂ صبح کے بغیر گریۂ شام کے بغیر

    نالۂ صبح کے بغیر گریۂ شام کے بغیر ہوتا نہیں وصال یار سوز دوام کے بغیر تو نے اگر کیا نہ یاد شق رہے گا نامراد کیسے کٹے گی زندگی تیرے پیام کے بغیر ہے یہ مرا ہی حوصلہ کرتا ہوں روز سامنا گردش صبح و شام کا گردش جام کے بغیر عرصہ ہوا وہ فتنہ گر آیا نہیں کبھی ادھر سونی پڑی ہے رہگزر حسن ...

    مزید پڑھیے

    دل کی رکھنا دیکھ بھال اے دلبر رنگیں جمال

    دل کی رکھنا دیکھ بھال اے دلبر رنگیں جمال ہے بہت نازک یہ شیشہ اس میں آ جائے نہ بال آرزو مندی میں بھی مشکل پسندی کا جنوں دل اسی کو چاہتا ہے جس کا ملنا ہے محال اک فقیر بے نوا نے مجھ کو سمجھایا یہ راز درد کی دولت کے آگے ہیچ ہیں مال و منال اپنی کم ظرفی کا غم ہے اور کوئی غم نہیں دل سے ...

    مزید پڑھیے

    بھٹک کے راہ سے ہم سب کو آزما آئے

    بھٹک کے راہ سے ہم سب کو آزما آئے فریب دے گئے جتنے بھی رہنما آئے ہم ان کو حال دل زار بھی سنا آئے کمال جرات اظہار بھی دکھا آئے کریں تو کس سے کریں ذکر خانہ ویرانی کہ ہم تو آگ نشیمن کو خود لگا آئے خیال وصل میں رہتے ہیں رات بھر بیدار تمہارے ہجر کے ماروں کو نیند کیا آئے رہین عیش و طرب ...

    مزید پڑھیے

    زندگی کے آخری لمحے خوشی سے بھر گیا

    زندگی کے آخری لمحے خوشی سے بھر گیا ایک دن اتنا ہنسا وہ ہنستے ہنستے مر گیا بجھ گیا احساس طاری ہے سکوت بے حسی درد کا دفتر گیا سامان شور و شر گیا شخص معمولی مرا جو مال وافر چھوڑ کر مرتے مرتے تہمتیں چند اپنے ذمے دھر گیا اس قدر سنجیدہ تھا وہ دفعتاً بوڑھا ہوا اور پھر اک دوپہر بیوی کو ...

    مزید پڑھیے

    ترس رہا ہوں عدم آرمیدہ خوشبو کو

    ترس رہا ہوں عدم آرمیدہ خوشبو کو کہاں سے ڈھونڈ کے لاؤں رمیدہ آہو کو زہے نصیب کہ تسکین دے رہا ہے آج تمہارا حسن مرے عشق سر بہ زانو کو چمک رہا ہے تری راہ میں تری خاطر ہے انتظار ترا ہر دیے کو جگنو کو ستم کہ اہل محبت بھی رہ گئے ناکام سمجھ نہ پائے جمال ہزار پہلو کو اتارا عمر گریزاں کے ...

    مزید پڑھیے

    جنوں عرفان بن کر رہ گیا ہے

    جنوں عرفان بن کر رہ گیا ہے یہ کفر ایمان بن کر رہ گیا ہے یہ کافی‌ گھر مری شاموں کا محور مری پہچان بن کر رہ گیا ہے فرشتہ جس کو بننا تھا وہ انساں فقط حیوان بن کر رہ گیا ہے وہ تھا اک نکتہ داں خوش فکر شاعر مگر نادان بن کر رہ گیا ہے سخن میرا تری بزم طرب میں سریلی تان بن کر رہ گیا ہے یہ ...

    مزید پڑھیے

    عمر بڑھتی جا رہی ہے زیست گھٹتی جائے ہے

    عمر بڑھتی جا رہی ہے زیست گھٹتی جائے ہے جسم کی خوشبو کی خواہش دور ہٹتی جائے ہے سوچ میں بھی اب نہیں پہلا سا تیور اور لوچ شوق کی دیوار گرد غم سے اٹھتی جائے ہے بے مزہ ہونے لگی ہے زندگی بعد شباب رات ابھی باقی ہے لیکن نیند اچٹتی جائے ہے آ رہی ہے سکھ ملن کی چمپئی اجلی سحر دکھ کی یہ بے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2