آغوش گل میں لذت صحبت نہیں رہی

آغوش گل میں لذت صحبت نہیں رہی
کس سے کہوں کہ قوس محبت نہیں رہی


موجود ہوں بساط تمنا کے دشت میں
پہلو میں آبروئے ہزیمت نہیں رہی


دیکھا اسے تو قرض وفا یاد آ گیا
باتوں میں اس کی خوئے ارادت نہیں رہی


میں بھول کے بھی اس کی گلی میں نہ جاؤں گی
پہچانتی ہوں دل میں مروت نہیں رہی


شاموں کے سائے ڈھونڈنے نکلے تھے کل یہیں
کہتے ہیں آج عشق کی مہلت نہیں رہی


بکھرے ہوئے ہیں لفظ بھی نوحہ گری کہاں
دل میں ہوائے خلوت و جلوت نہیں رہی


اب بس کرو کہ آنکھوں میں پانی نہیں رہا
اس زندگی میں اب کوئی تہمت نہیں رہی